Urdu book · کتابِ معرفت

محبت الہی

Urdu book, p. 428

By Maulana Wahiduddin Khan

قادرِ مطلق، عاجزِ مطلق خدا اور انسان کے درمیان جو نسبت ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ خدا کل ہے اور انسان اس کا جز ہے۔ خدا سمندر ہے اور انسان اس کا ایک قطرہ ہے۔ اس قسم کی تمام نسبتیں سرتا سر بے بنیاد ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان ”ہے“ اور ”نہیں“ کی نسبت ہے۔ خدا سب کچھ ہے اور انسان اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ خدا، واجب الوجود(self-existing) ہے، اور انسان مکمل طور پر اور ہر اعتبار سے خدا کے حکم سے وجود میں آنے والی صرف ایک مخلوق۔ انسان کی صفت یہ ہے کہ وہ ایک صاحبِ شعور مخلوق ہے۔ انسان کے ذریعے اس کائنات میں شعوری عجز کا واقعہ وجود میں آتا ہے، اور بلاشبہ اس سے بڑا کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔ یہی انسان کی اصل قیمت ہے۔ انسان وہ نادر مخلوق ہے، جو اس کائنات میں شعورِ قدرت کے مقابلے میں شعورِ عجز کی دوسری انتہا (extent) بناتا ہے۔ وہ کائنات کے صفحے پر ”عدد“ کے مقابلے میں ”صفر“ کا ہندسہ تحریر کرتا ہے۔ وہ خداوندی انا کے مقابلے میں اپنے بے انا ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ یہی شعورِ عجز انسان کا سب سے بڑا سرمایہ(asset)ھوے۔ یہی کسی انسان کے لیے اس کی سب سے بڑی دریافت (discovery) ہے۔ جب کوئی عورت یا مرد عجز کی زبان بولیں، تو انھوں نے اپنی زبان کا صحیح استعمال کیا۔ اس کے مقابلے میں جو عورت یا مرد فخر اور سرکشی اور خودنمائی اور گھمنڈ اور اظہارِ برتری کی زبان بولیں، تو انھوں نے اپنی زبان کا غلط استعمال کیا۔ اس دنیا میں صرف اُس انسان کو جینے کا حق ہے جو اس کی قیمت ادا کرے، اور یہ قیمت عجز ہے۔ عجز کی قیمت ادا کیے بغیر اس دنیا میں رہنا بلا شبہ ایک مجرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ عجز دراصل حقیقت شناسی کی اعلیٰ ترین صورت کا نام ہے۔ عجز کوئی مجبورانہ چیز نہیں، عجز دراصل وہ مثبت کیفیت ہے جو حقیقتِ اعلیٰ کے اختیاراتہ اعتراف سے پیدا ہوتی ہے۔ عجز کوئی انفعالی کیفیت نہیں، وہ تمام فعّال کیفیات سے زیادہ بڑی فعّال کیفیت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page