محبت الہی
Urdu book, p. 429
By Maulana Wahiduddin Khan
عجز کا تجربہ ایک حدیث قدسی موسی علیہ السلام کے حوالے سے ان الفاظ میں آئی ہے : ابغني عند المنكسرة قلوبهم (حليۃ الأولیاء، جلد 2، صفحہ 364)۔ یعنی مجھے ٹوٹے دل والوں کے پاس تلاش کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بربادی اور ناکامی انسان کو خدا سے قریب کرتی ہے۔ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ انسان کے ساتھ بار بار ناکامی کے واقعات ہوں، وہ دل شکستگی کے تجربے سے دوچار ہو۔ لیکن انسان ہوشیاری کرتا ہے، وہ اپنے کو برباد نہیں ہونے دیتا، اور اپنے آپ کو اس قسم کے تجربات سے بچانے کے لیے سب کچھ کرڈالتا ہے، اس لیے وہ خدا سے قربت کا تجربہ بھی نہیں کرتا۔ اس ہوشیاری کی عام طور پر دو قسمیں ہیں ۔ ایک ، یہ کہ صحیح طرز پر معاملہ کرنے میں جب اس کو کوئی نقصان ہوتا ہوا نظر آتا ہے تو وہ فوراً غلط طریقے اختیار کر کے اپنے آپ کو نقصان سے بچانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ وہ انصاف اور دیانت داری کے طریقے کو چھوڑ کر، بے انصافی اور بد دیانتی کا طریقہ اپنا لیتا ہے۔ اس طرح وہ بظاہر اپنی ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کرلیتا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو دل شکستگی کے تجربے سے دوچار نہیں ہونے دیتا۔ حالاں کہ دل شکستگی کسی انسان کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی جھلاوہ کلچر کو اختیار کر لیتا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو دل شکستگی کے احساس سے بچانے کے لیے شراب پیتا ہے۔ نمائشی تفریحات کے ذریعے اپنا دل بہلاتا ہے۔ وہ مصنوعی سرگرمیوں میں مشغول ہو کر اپنے آپ کو افسردگی کے احساس سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی فطری زندگی گزارے۔ وہ ہمیشہ اعتدال کے ساتھ رہے، وہ کسی بھی حال میں، جھوٹ اور بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے ۔ اس طرح وہ اُن لمحات سے محروم نہ ہوگا، جب کہ اس کے اوپر عجز کا احساس طاری ہو، اور وہ قادرِ مطلق خدا کی قربت کا تجربہ کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader