محبت الہی
Urdu book, p. 432
By Maulana Wahiduddin Khan
شکر و اعتراف سب سے بڑی چیز جو انسان سے مطلوب ہے، وہ یہ کہ وہ اپنے خالق و مالک کا شاکر بنے۔ وہ اللہ کی نعمتوں پر اللہ کا اعتراف کرے۔ مگر دنیا میں سب سے کم جو چیز پائی جاتی ہے، وہ یہی شکریا اعتراف ہے۔ انسان خدائی انعامات کے ہجوم میں زندگی گزارتا ہے، لیکن وہ ناشکرا بنا رہتا ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان ہر ملی ہوئی چیز کو خدا کے بجائے خود اپنے خانہ میں ڈال لیتا ہے ۔ اس کو وجود کس طرح ملا، ماں باپ کے ذریعے ۔ وہ دنیا میں زندہ کیسے ہے، اپنی تدبیروں کے ذریعہ ۔ اس نے ترقی کس طرح کی، اپنی ہوشیاری کے ذریعہ ۔ اس کے معاملات درست کیسے ہوئے، اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ذریعے ۔ اس نے عزت کا مقام کس طرح پایا، اپنے تعلقات کے ذریعہ، وغیرہ۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ جن ملی ہوئی چیزوں کو انسان نے خدا سے پایا ہے، اُن کو خدا سے منسوب (associate) کرنے کے بجائے، وہ اُن کو کسی اور سے منسوب کر دیتا ہے۔ منسوب کرنے کی اسی غلطی کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان کے اندر خدا کے لیے شکر و اعتراف کا جذبہ نہیں پیدا ہوتا۔ خدا کے لیے شکر و اعتراف یہ نہیں ہے کہ آپ مختلف مواقع پر الحمد للہ اور سبحان اللہ کے الفاظ بول دیں۔ شکر ہمیشہ ایک دریافت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آدمی پہلے خدا کے محسن ہونے کی حقیقت کو دریافت کرتا ہے ۔ یہ دریافت اس کے ذہن کو بیدار کرتی ہے۔ اس کے بعد ذہن کے اندر ایک پر اس جاری ہوتا ہے۔ پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے سینے میں اللہ کے لیے شکر کا چشمہ جاری ہو جاتا ہے۔ آدمی کے اندر پیدا ہونے والی یہ داخلی کیفیت شکر و اعتراف کے الفاظ میں ظاہر ہوتی رہتی ہے ۔ دریافت کی سطح پر جس نے شکر کو نہیں جانا، وہ اظہار کی سطح پر بھی شکر کی مطلوب عبادت نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader