محبت الہی
Urdu book, p. 433
By Maulana Wahiduddin Khan
اعلیٰ ربانی تجربہ بعض روایات میں ایک حدیث نقل کی گئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: إذا دعاہ عبدہ المؤمن قال له: يا جبريل، احبس حاجة عبدي هذا، فإني أحبه وأحب صوته (شعب الایمان للبیھقی، حدیث نمبر 9562)۔ یعنی ایک بندہ مومن جب اللہ کو پکارتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے—اے جبریل، میرے بندے کی حاجت کو (جلد) پوری نہ کرو، کیوں میں اس کو پسند کرتا ہوں، اور اس کی آواز کو پسند کرتا ہوں۔ اس سے مراد سچی معرفت کا کلمہ ہے۔ جب کوئی انسان کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اُس وقت اس کے تمام داخلی احساسات متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس کی چھپی ہوئی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جس کو جدید نفسیات کی اصطلاح میں ذہنی طوفان (brain storming) کہا جا سکتا ہے۔ اُس وقت اس کی زبان سے وہ خصوصی کلمات نکلتے ہیں جو سچی حمد کو بیان کرنے والے ہوتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں خالق کی معرفت گہرائی کے ساتھ موجود ہے، مگر یہ معرفت ابتدائی طور پر خوابیدہ حالت (dormant state) میں ہوتی ہے۔ ان چھپے ہوئے احساسات کو جگانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی صدماتی تجربہ (shocking experience) پیش آئے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو فطرت میں چھپے ہوئے ربانی احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ اُس وقت آدمی کی زبان سے ذکر و دعا کے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو تخلیقی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ یہ کلمات وہ ہوتے ہیں جن کو اس سے پہلے اُس نے نہ سنا تھا اور نہ اپنی زبان سے کہا تھا اور نہ کہیں اُن کو پڑھا تھا۔ یہ ایک انتہائی خصوصی نوعیت کا ذکرِ خداوندی ہوتا ہے۔ اس کو دوسرے الفاظ میں تخلیقی ذکر کہہ سکتے ہیں۔ یہ ایک خصوصی توفیق ہے جو اللہ اپنے منتخب بندوں کو عطا کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader