محبت الہی
Urdu book, p. 434
By Maulana Wahiduddin Khan
خالق کی بے پناہ عظمت قرآن کی سورہ الرعد میں یہ آیت آئی ہے : اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا (13:2)۔ یعنی اللہ ہے جس نے آسمان کو بلند کیا بغیر ایسے ستون کے جو تمھیں نظر آئیں۔ اس آیت میں ایک عظیم کائناتی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت اتنی زیادہ عظیم ہے کہ اس کو سوچ کر آدمی کا دل دہل اٹھے اور اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ قدیم روایتی زمانے میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ چیزیں کسی مادی سہارے پر قائم ہیں۔ مثلاً ستارے کسی آسمانی چھت سے لٹکائے گئے ہیں، اور زمین کسی مادی سہارے پر قائم ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں جب دوربین ایجاد ہوئی اور خلا (space) کا دور بینی مشاہدہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ساری کائنات ایک خلا میں ہے۔ کہکشائیں، شمسی نظام، ستارے اور سیارے، سب ایک اتھاہ خلا میں کسی سہارے کے بغیر گھوم رہے ہیں۔ یہ سارا معاملہ اتنے وسیع خلا میں ہو رہا ہے کہ انتہائی طاقت ور دوربینوں کے ذریعے بھی اُن کی حدوں کو دیکھا نہیں جاسکتا۔ کسی سہارے کے بغیر قائم یہ کائناتی نظام اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کا صرف قیاس کیا جا سکتا ہے۔ وسیع کائنات کے بارے میں جو اندازے کئے گئے ہیں اور اس کے جو فوٹو حاصل کئے گئے ہیں، وہ اتنے زیادہ بڑے ہیں کہ اُن کے فاصلوں کو عام اعداد کے ذریعے بیان نہیں کیا جاسکتا، چناں چہ اُن کو صرف سالِ نور (light years) کی اصطلاح میں بیان کیا جاتا ہے: Light year: A unit of astronomical distance, equal to the distance that light travels in one year, approximately 6,000,000,000,000 miles. لا محدود خلا (limetless space) میں انتہائی وسیع کائنات کا معلق ہونا، خالق کی عظمت کا ناقابلِ بیان ثبوت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader