Urdu book · کتابِ معرفت

محبت الہی

Urdu book, p. 436

By Maulana Wahiduddin Khan

عظمتِ الہی وسیع خلا میں تقریباً ایک سو بلین کہکشائیں (galaxies) ہیں۔ ہر کہکشاں کے اندرایک سو بلین سے زیادہ ستارے ہیں۔ اس عظیم کائنات کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہمارا شمسی نظام (solar system) ہے۔ اسی شمسی نظام میں وہ استثنائی سیارہ واقع ہے جس کو زمین کہا جاتا ہے۔ یہ تمام ستارے اور سیارے ایک بے حد وسیع خلا کے اندر مسلسل نہایت منظم انداز میں گردش کر رہے ہیں۔ یہ وسیع کائنات تقریباً پندرہ بلین سال سے قائم ہے، لیکن اس کے مختلف اجسام (bodies) کے درمیان کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ یہ عظیم کائنات ایک عظیم تر خالق کے وجود کی گواہی دے رہی ہے، ایک ایسا خالق جو خالق بھی ہے اور اسی کے ساتھ حی و قیوم بھی۔ وہ قادر مطلق بھی ہے اور حکمت اور رحمت کا اتھاہ خزانہ بھی۔ یہ خالق اتنی اعلیٰ سطح پر اس وسیع کائنات کا نظم کر رہا ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص (defect) پایا نہیں جاتا۔ پوری کائنات حیرت انگیز طور پر ایک بے نقص کائنات (zero-defect universe) ہے۔ ایمان باللہ کسی کلمہ کے لفظی تکرار کا نام نہیں۔ ایمان دراصل اسی عظیم خالق کی دریافت (discovery) کا نام ہے۔ جب کوئی شخص غور و فکر سے کام لیتا ہے، وہ اپنے وجود سے لے کر بقیہ کائنات تک ایک عظیم تخلیقی کرشمہ کی دریافت کرتا ہے تو وہ بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ بلاشبہ اس دنیا کا ایک خالق ہے۔ میں اُس کا اعتراف کرتا ہوں اور اس کے آگے کامل طور پر سرینڈر کرتا ہوں۔ اسی شعوری دریافت کا نام ایمان باللہ ہے۔ یہ ایمان یا معرفت ایک ایسا فکری انقلاب ہے جو آدمی کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے۔ اس ایمان کے بعد آدمی کے اندر ایک نئی ربانی شخصیت ایمرج (emerge) کرتی ہے۔ یہی وہ انقلابی شخصیت ہے جس کو مومن اور مسلم کہا جاتا ہے۔ یہ شخصیت ہمیشہ شعوری معرفت سے بنتی ہے۔ شعوری معرفت نہیں تو مومنانہ شخصیت بھی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page