محبت الہی
Urdu book, p. 438
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی عظمت خدا کی معرفت ایمان اور اسلام کی اساس (basis) ہے۔ جتنی اعلیٰ معرفت، اتنا ہی اعلیٰ ایمان۔ اس معرفت کی تکمیل اُس وقت ہوتی ہے، جب کہ آپ خدا کو اس کے کمالِ عظمت کے ساتھ دریافت کریں۔ ایک بندہ جب خدا کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کا وہی حال ہوتا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ (8:2)۔ یعنی خدا کی یاد سے اُن کے دل دہل اٹھتے ہیں۔ جدید فلکیاتی سائنس (modern astronomy) کا اس معاملے میں ایک مثبت کنٹری بیوشن (contribution) یہ ہے کہ اس نے خالق کی ناقابل قیاس عظمت کا ادراک کرنے کے لیے ایک فریم ورک (frame work) دے دیا ہے۔ اس فریم ورک کی مدد سے انسان خدا وند ذوالجلال کی ناقابل بیان عظمت کا ایک تصور اپنے ذہن میں لا سکتا ہے۔ جدید سائنس کئی سوسال سے فلکیات کا مطالعہ کررہی ہے۔ 1508ء میں دوربین (telescope) کی ایجاد ہوئی، اور 1609ء میں پہلی بار اٹلی کے سائنس داں گیلیلیو (Galileo) نے خلا کا دوربین مشاہدہ کیا۔ یہ فلکیاتی مشاہدہ برابر بڑھتا رہا۔ پچھلے زمانے میں دوربین رصد گاہ کسی پہاڑ پر نصب کی جاتی تھی۔ اب خلائی سائنس کا زمانہ آگیا ہے۔ اب انسان نے خلائی رصد گاہ (space observatory) بنالی ہے۔ اس کے ذریعے کائنات کا مشاہدہ اتنی زیادہ دور تک کرنا ممکن ہوگیا ہے جس کی دوری کو صرف سال نور (light years) کی اصطلاح میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح خدا کی عظمت کو تصور میں لانے کے لیے ایک نیا وسیع تر دائرہ انسان کے علم میں آگیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک تازہ ترین فلکیاتی دریافت سامنے آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ خلا میں نصب الیکٹرانک دوربینوں کے ذریعے ایک بہت بڑا بلیک ہول دریافت ہوا ہے، بلکہ سب سے بڑا۔ یہ بلیک ہول پورے نظامِ شمسی کو نگل سکتا ہے۔ نظام شمسی کا دائرہ کتنا زیادہ بڑا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے اس نظام کا بعید ترین سیارہ پلوٹو (Pluto) ہے جو سورج کے گرد بیضوی دائرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader