Urdu book · کتابِ معرفت

محبت الہی

Urdu book, p. 443

By Maulana Wahiduddin Khan

تبارک اللہ تبارک کا لفظی مطلب ہے ۔ بہت زیادہ برکت والا۔ یہ لفظ قرآن میں 9 بار آیا ہے۔ یہ لفظ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے (وهی كلمة لم تستعمل إلا لله وحده)۔ تبارک کا لفظ برکت سے مشتق ہے ۔ یہ تفاعل کے وزن پر برکتہ کا مبالغہ ہے۔ برکتہ کے معنی حضرت عبد اللہ بن عباس نے ان الفاظ میں بیان کیے ہیں: الكثرة في كل خير (لسان العرب 10/396)۔ یعنی ہر قسم کے خیر کی کثرت ۔ تبارک کا مطلب ہے ۔ ہر پہلو سے اور ہر چیز میں کمالِ خیر کا حامل ہونا۔ مثلاً قرآن میں ہے: فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (23:14)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی تخلیق ہر پہلو سے کامل ہے، اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میں ہر چیز اپنے فائنل ماڈل (final model) پر ہے۔ اس دنیا کا تخلیقی منصوبہ اتنا زیادہ اعلیٰ ہے کہ اس میں کوئی تضاد نہیں، اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں، کسی پہلو سے اس میں ادنیٰ درجے میں کوئی نقص (defect) موجود نہیں۔ انسان کو جو جسم دیا گیا ہے، وہ ہر اعتبار سے ایک بہترین جسم ہے۔ اس دنیا میں جو لائف سپورٹ سسٹم پایا جاتا ہے، وہ انسان کی تمام ضرورتوں کو آخری حد تک پورا کرنے والا ہے۔ سولر سسٹم اور کہکشاؤں کا نظام اپنی ساری وسعتوں کے باوجود پوری طرح خالی از نقص (zero-defect) صفات کا حامل ہے۔ نباتات، جمادات اور حیوانات کی وسیع دنیا اپنے تمام تنوعات کے باوجود ہر پہلو سے کمال خیر کے نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ اپنی ذات میں خیر کامل ہے۔ اُسی سے خیر و برکت کا تمام فیضان لوگوں تک پہنچتا ہے۔ یہ سب انسان کے لیے ایک عظیم رحمت (blessing) ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ انسان ان کو دیکھ کر خدا کی بے پایاں عظمت و قدرت کا تعارف حاصل کرے ۔ وہ خدا سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگے، اور خدا کے بارے میں اس کے اندر خشیت کے اعلیٰ جذبات پیدا ہوں ۔ یہی ایمان ہے، اور خدا کی پیدا کی ہوئی دنیا اسی ایمان کی کائناتی تربیت گاہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page