محبت الہی
Urdu book, p. 444
By Maulana Wahiduddin Khan
ابتغاء رضوان اللہ اسلام کے مطابق، مقبول عمل وہ ہے جو خالص رضوان اللہ (الحدید، 57:27) اور مرضات اللہ (البقرۃ، 2:265) کے لیے انجام دیا جائے۔ جس عمل میں رضوان الہی یا مرضات الہی کی اسپرٹ شامل نہ ہو، وہ آخرت کے اعتبار سے مقبول عمل نہیں، خواہ بظاہر لوگوں کو وہ ایک شان دار کام دکھائی دیتا ہو۔ اللہ کی رضا کے لیے کام کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب آپ کوئی کام کریں تو آپ یہ الفاظ بول دیں ۔ میں اللہ کی رضا کے لیے یہ کام کر رہا ہوں۔ یہ رضائے الہی کی تصغیر ہے۔ رضائے الہی یا رضوان الہی ایک گہری اسپرٹ کا نام ہے۔ یہ اسپرٹ لمبے عمل کے نتیجے میں کسی کے اندر پیدا ہوتی ہے اور جو شخص اس زندہ اسپرٹ کے تحت کام کرے، اُس کا عمل رضائے الہی کے مطابق کیا جانے والا عمل ہے۔ جو کام اس اسپرٹ سے خالی ہو، وہ گویا کہ پلاسٹک کا پھول ہے۔ پلاسٹک کا پھول دیکھنے میں بظاہر پھول نظر آتا ہے، لیکن اس کو کبھی حقیقی پھول کا درجہ نہیں ملتا۔ اصل یہ ہے کہ جب ایک بندۂ خدا کے اندر تلاش کا جذبہ (seeking spirit) پیدا ہوتا ہے تو وہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سچائی کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، وہ خدا کی کتاب کو پڑھتا ہے، حدیثِ رسول کا مطالعہ کرتا ہے، تخلیقاتِ خداوندی میں غور و فکر کرتا ہے، وہ ہر قسم کے تعصبات سے خالی ہو کر یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ سچائی کیا ہے۔ آخر کار اس کے اوپر سچائی پوری طرح کھل جاتی ہے۔ یہی دریافت وہ مقام ہے جہاں سے رضائے الہی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اس دریافت کے بعد یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی سوچ بدل جاتی ہے۔ وہ اپنے رات دن کے لمحات میں اسی کے بارے میں سوچتا ہے۔ آخر کار، اس کی زندگی کا ایک فوکس (focus) بن جاتا ہے۔ یہ فوکس اللہ کی رضا ہوتی ہے۔ وہ دل و جان سے یہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو۔ وہ اپنے رب کی رحمتوں کا مستحق بنے۔ قیامت کے دن وہ عرش الہی کے سائے میں جگہ پائے۔ جو کام اس اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے، وہی رضائے الہی کے مطابق، کیا جانے والا کام ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader