Urdu book · کتابِ معرفت

محبت الہی

Urdu book, p. 446

By Maulana Wahiduddin Khan

شرک کیا ہے قرآن کی سورہ البقرہ کی ایک آیت یہ ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ (2:165)۔ یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہئے۔ اور جو اہل ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب سے دوچار ہوں گے تو وہ سمجھ لیتے کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا کیا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی کو اللہ کا ندّ ٹھہرایا جائے۔ ند کے معنی مثل (equal) کے ہیں۔ اللہ کے سوا، کسی اور کو اُس کا ندّ ٹھہرانا شرک ہے، خواہ وہ کلی معنی میں ہو یا جزئی معنی میں۔ اللہ کا ندّ ٹھہرانا کن پہلوؤں سے ہوتا ہے، مذکورہ آیت میں اس کے دو پہلو بیان کئے گئے ہیں ـــ محبت، اور قوت۔ قرآن کی ایک اور آیت کے مطابق، اس کا تیسرا پہلو خشیت (التوبہ، 9:18) ہے۔ بنیادی طور پر یہی تین چیزیں ہیں جو شرک کی پہچان ہیں۔ مذکورہ تینوں معاملے میں جس نے اللہ کے سوا کسی اور کو شریک کیا، اس نے شرک کا ارتکاب کیا_ حتی کہ اگر کسی شخص نے خود اپنے آپ کو اس قسم کا درجہ دیا تو اس کا کیس بھی شرک کا کیس بن جائے گا (الجاثیہ، 45:23)۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے ـــ توحید کا مطلب ہے ہر اعتبار سے، صرف ایک اللہ کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنانا، اور شرک کا مطلب ہے ـــ جزئی یا کلی طور پر کسی غیر اللہ کو اس کنسرن میں شریک کرنا۔ جب کوئی شخص اللہ کو اس حیثیت سے دریافت کرے کہ یہ اللہ ہے جس نے اس کو عدم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page