محبت الہی
Urdu book, p. 445
By Maulana Wahiduddin Khan
سجدۂ قربت قرآن کی سورہ العلق میں ارشاد ہوا ہے : اسجدوا واقترب (96:19)۔ یعنی سجدہ کرو اور قریب ہو جاؤ۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد، فأكثروا الدعاء (صحیح مسلم، حدیث نمبر 482)۔ یعنی بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اُس وقت ہوتا ہے، جب کہ وہ سجدے میں ہوتا ہے، اس لیے تم سجدے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرو۔ قربتِ خدا وندی کا یہ معاملہ صرف شکل سجدہ پر نہیں ہے، بلکہ روح سجدہ پر ہے۔ ایک واقعہ اس معاملے کی وضاحت کرتا ہے۔ بنگلور کا واقعہ ہے۔ ایک ہندو نو جوان کی بعض عادتوں سے اُس کا باپ سخت ناراض ہو گیا۔ اُس نے اپنے بیٹے کو گھر سے نکال دیا۔ ایک عرصے تک وہ ادھر اُدھر بھٹکتا رہا۔ آخر کار، اس کی ملاقات ڈاکٹر احمد سلطان (وفات (1999) سے ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمھارا باپ تم کو دوبارہ قبول کرلے تو اس کی صرف ایک صورت ہے۔ تم خاموشی سے اپنے گھر جاؤ، اور وہاں پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹاؤ۔ جب دروازہ کھلے اور تمھارا باپ تمھارے سامنے آئے تو تم فوراً ہی باپ کے پیروں پر گر پڑو، اور کہو کہ باپ، مجھ سے غلطی ہوئی، مجھ کو معاف کر دے۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا۔ جب لڑکا روتے ہوئے اپنے باپ کے پیروں پر گر پڑا تو باپ بھی رونے لگا۔ اس نے اپنے بیٹے کو اُٹھا کر سینے سے لگا لیا اور اس کو معاف کر کے دوبارہ اپنے گھر میں داخل کر لیا۔ سجدہ بلا تشبیہہ اسی قسم کی ایک حالت ہے۔ سجدہ کوئی رسمی فعل نہیں۔ حقیقی سجدہ یہ ہے کہ ایک بندہ شدتِ احساس سے بے چین ہو جائے اور بے تابانۂ طور پر وہ اپنا سر زمین پر رکھ دے۔ ایسا سجدہ گویا کہ اپنے رب کے قدموں میں سر رکھنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ایسا سجدہ تسلیم و رضا کی آخری صورت ہے۔ جب کوئی بندہ اس طرح اپنے آپ کو آخری حد تک خدا کے آگے سرینڈر کر دے تو خدا کی رحمت کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اس کو معاف فرما کر اُسے اپنی رحمتوں کے سائے میں لے لے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader