Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 454

By Maulana Wahiduddin Khan

متشابہ دنیا قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت کو جب جنت میں داخل کیا جائے گا اور ان کو وہاں کا رزق دیا جائے گا تو اُس کو پا کر وہ کہیں گے ــــ یہ تو وہی ہے جو ہم کو اس سے پہلے دنیا میں دیا گیا تھا، اور اُن کو جنت میں متشابہ رزق دیا جائے گا (البقرۃ، 2:25)۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو دنیا ئیں ایک دوسرے کے مشابہ پیدا کیں ۔ ایک موجودہ دنیا، اور دوسری جنت کی ابدی دنیا۔ موجودہ دنیا امتحان (test) کے لیے ہے، اور اگلی دنیا انجام (reward) کے لیے ۔ موجودہ دنیا ناقص ہے، اور آخرت کی دنیا کامل ۔ یہ غیر معیاری ہے اور وہ معیاری ۔ یہ نا پائیدار ہے اور وہ پائیدار ۔ قرآن کے الفاظ میں، یہاں خوف اور حزن ہے اور دوسری دنیا خوف اور حزن سے مکمل طور پر خالی ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو بار بار یہ تجربہ ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ چاہتا ہے وہ بظاہر یہاں موجود ہے، اس کے باوجود وہ آدمی کے لیے قابل حصول نہیں ۔ آدمی صحت چاہتا ہے، مگر بیماری ، حادثہ اور بڑھاپا اُس کی تمناؤں کی نفی کر دیتے ہیں ۔ آدمی لذت چاہتا ہے، مگر ہزار کوشش کے بعد جب وہ سامانِ لذت کو حاصل کر لیتا ہے تو اس پر کھلتا ہے کہ وہ اُس سے انجوائے نہیں کر سکتا ۔ آدمی خوشیوں سے بھری ہوئی زندگی چاہتا ہے، مگر خوشیوں کے باغ میں داخل ہو کر وہ دریافت کرتا ہے کہ یہاں خوشیوں کا باغ طرح طرح کے کانٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ آدمی کو یہاں جنت کا تعارف صرف دور سے دیا جاتا ہے۔ یہاں آدمی کو جنت کی ایک جھلک تو دکھائی جاتی ہے مگر اسی کے ساتھ اس کو یہ بتایا جاتا ہے کہ جنت تمھیں اس دنیا میں نہیں مل سکتی۔ تمھارے لیے مقدر ہے کہ یہاں تم جنت کے لیے کوشش کرو اور اگلے مرحلہ حیات میں جنت کو عملاً حاصل کرو ۔ موجودہ دنیا میں آدمی سے عمل مطلوب ہے۔ اسی کے ساتھ ابتدائی جھلک کی صورت میں اُس کو دکھا دیا جاتا ہے کہ اگر تم عمل میں پورے اترے تو وہ کون سی دنیا ہے جہاں تمھیں اس کے نتیجے میں داخلہ دیا جائے گا ، موجودہ دنیا تعارف جنت کا مقام ہے اور اگلی دنیا حصول جنت کا مقام۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page