Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 455

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کا تعارف قرآن کی سورہ السجدہ میں آیا ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (32:17) ۔ یعنی کسی کو خبر نہیں کہ ان لوگوں کے لیے آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔ اس آیت کے مطابق، جنت اس دنیا میں ایک لامعلوم چیز ہے۔ لیکن قرآن کی ایک اور آیت میں کہا گیا ہے: وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (47:6) ۔ یعنی خدا ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اُنھیں پہچان کرا دی ہے۔ قرآن کی اِس دوسری آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی پہچان اسی دنیا میں ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں دونوں آیتوں کے درمیان تطبیق کی صورت کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ پہلی آیت میں جنت کی عملی یافت کو بتایا گیا ہے، اور دوسری آیت میں جنت کی فکری دریافت کا بیان ہے۔ جنت بلاشبہ اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے صرف آخرت میں معلوم ہوگی، لیکن موجودہ دنیا میں انسان جنت کو بالقوہ طور پر (in terms of potential) جان لیتا ہے، اور آخرت میں وہ جنت کو بالفعل طور پر (in terms of actual) حاصل کرلے گا۔ جو انسان جنت کے بارے میں حساس ہو، جو خدا کے تخلیقی نقشہ پر غور کرتا ہو، جو دنیا اور آخرت کی حکمتوں میں تدبر کرتا ہو، وہ اسی دنیا میں جنت کی جھلک کو پالیتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو دریافت کر لیتا ہے کہ موجودہ دنیا اس انداز میں بنائی گئی ہے کہ وہ جنت کا تعارف بن گئی ہے۔ آخرت کی جنت ایک کامل (perfect) جنت ہے اور موجودہ دنیا گویا کہ غیر کامل (imperfect) جنت ۔ آخرت کی جنت میں آدمی جن آسائشوں کو اپنی آئیڈیل صورت میں پائے گا، اُن آسائشوں کا تجربہ اس کو اسی دنیا میں آئیڈیل سے کم درجے میں ہو جاتا ہے، اِس فرق کے ساتھ کہ آخرت کی جنت ابدی جنت ہے اور موجودہ دنیا اس کا صرف وقتی اور جزئی تعارف۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page