Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 457

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت یا جہانِ لذت قرآن کی سورہ ابراہیم میں دنیا کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34)۔ اس کے مقابلے میں، جنت کے بارے میں قرآن کی سورہ نمبر حم السجدہ میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ (41:31)۔ ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو تمام چیزیں بقدرِ ضرورت دی گئی ہیں۔ اس کے مقابلے میں جنت میں انسان کو تمام چیزیں بقدرِ خواہش دی جائیں گی۔ انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک لذت طلب حیوان (pleasure-seeking animal) ہے۔ لذت ایک انوکھی صفت ہے جو صرف انسان کے اندر پائی جاتی ہے۔ انسان کے اندر ہر قسم کی لذتوں کی بے پناہ طلب موجود ہے۔ لیکن موجودہ دنیا میں کسی بھی عورت یا مرد کی خواہشیں پوری نہیں ہوتیں۔ ہر ایک کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ وہ کامل فل فل منٹ (fulfilment) کے حصول کے بغیر مر کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، عالم ہو یا جاہل، عام انسان ہو یا کوئی بادشاہ۔ انسان کی لذتوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ لذتِ فکر، لذتِ بصارت، لذتِ سماعت، لذتِ ذائقہ، لذتِ لمس، لذتِ گفتگو، لذتِ رفاقت، لذتِ مطالعہ، لذتِ دریافت، لذتِ مسرت، وغیرہ۔ ان تمام لذتوں کی طلب انسان کے اندر بے پناہ حد تک موجود ہے، لیکن موجودہ دنیا میں انسان اپنی ان لذتوں کی تکمیل نہیں کر پاتا۔ وہ اسی کی تلاش میں رہتا ہے، مگر بہت جلد اس کو موت آ جاتی ہے۔ موجودہ دنیا میں اُس کو احساسِ لذت کا تجربہ تو ہوتا ہے، لیکن تکمیلِ لذت کا تجربہ اس کو حاصل نہیں ہوتا۔ ایک ملحد فلسفی نے جنت کو "خوش خیالی" قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جنت انسانی تمناؤں کی خوب صورت تخئیل (beautiful idealization of human wishes) ہے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ جنت انسان کی خوب صورت تمناؤں کا پوری طرح وقوع میں آنا beautiful) ۔actualization of human wishes) ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page