Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 456

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کا استحقاق قرآن کی سورہ ابراہیم میں آیا ہے: لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (14:7)۔ یعنی اگر تم دنیا میں اللہ کے عطیات پر شکر کرو گے تو تم کو آخرت میں خدا کے عطیات دئے جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر تمام عبادات کا خلاصہ ہے۔ جو آدمی دنیا کی زندگی میں حقیقی معنوں میں شکرگزاری کا ثبوت دے، وہ آخرت میں دوبارہ خدا کی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا۔ حقیقی شکر کسی آدمی کو جنت کا مستحق بناتا ہے۔ جنت میں صرف اعلی روحیں داخل کی جائیں گی، اور اعلیٰ روح وہ ہے جو حمد اور شکر کی کیفیات سے بنی ہو۔ اس اعلی روح کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت والے جب جنت میں داخل کر دئے جائیں گے تو وہ کہیں گے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِیْ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ یعنی اللہ کا شکر ہے جس نے حزن کو ہم سے دور کر دیا۔ دنیا کی زندگی میں ہر آدمی کا ایک لمحہ حزن یا زمانہ حزن ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ اس حزن (sorrow) سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ جو آدمی اپنے اس زمانہ حزن کو اور پھر زمانہ فرحت کو دریافت کرے اور پھر وہ یہ کہہ اٹھے کہ خدایا، تو نے دنیا میں میرے حزن کو دور کر دیا، اسی طرح تو آخرت میں میرے حزن کو دور کر دے۔ جو آدمی سچے احساس کے ساتھ یہ بات کہے تو یہ بات اس کے لیے ان شاء اللہ جنت میں داخلے کا ٹکٹ بن جائے گی۔ دنیا کی نعمتوں کا اعتراف اس کو آخرت کی نعمتوں کا مستحق بنا دے گا۔ اس قسم کا قول کوئی سادہ قول نہیں۔ اس کے لیے گہری شعوری بیداری درکار ہے۔ جو آدمی اپنے اندر اس قسم کی شعوری بیداری پیدا کرے، اُسی کے دل سے اس قسم کے کلمات نکلتے ہیں جو اس کے لیے جنت میں داخلے کا استحقاق بن جائیں۔ گہری شعوری بیداری کے بغیر کسی شخص کو یہ توفیق ملنے والی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page