خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 459
By Maulana Wahiduddin Khan
سچائی کی سیٹ پر قرآن میں اہل جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے_ فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُقْتَدِرٍ (54:55)_ یعنی وہ آخرت میں بادشاہِ کائنات کے پاس سچائی کی سیٹ پر ہوں گے: At the seat of truth with an all-powerful sovereign. (54: 55) قرآن کی اس آیت کے مطالعے سے دنیا اور آخرت کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ دنیا میں اُن لوگوں کو عزت ملتی ہے جو مقعد کذب (جھوٹ کی سیٹ) پر کھڑے ہوں۔ آخرت میں اس کے برعکس معاملہ ہوگا۔ آخرت میں عزت کا مقام صرف اُن لوگوں کو ملے گا جو دنیا کی زندگی میں مقعد صدق پر کھڑے ہوئے تھے۔ دنیا میں سچائی پر کھڑے ہونے والوں کو آخرت میں یہ انعام ملے گا کہ وہاں وہ سچائی کے مقام پر کھڑے ہونے کی عزت حاصل کریں۔ دنیا میں جھوٹ پر کھڑے ہونے والے کون ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ظاہری چیزوں میں جیتے ہوں، جو خود غرضی کے طریقوں میں مہارت رکھتے ہوں، جو موقع پرست ہوں اور استحصال کرنے کا مزاج رکھتے ہوں، جو لوگوں کو خوش کرکے مادی فائدے حاصل کرنے کے ماہر ہوں، جو لوگوں کو ان کی پسند کی خوراک دینا جانتے ہوں، جو کل کو نظر انداز کرکے آج کے مفادات میں جیتے ہوں_ یہ لوگ آج کی دنیا میں عزت کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں، مگر آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ صرف جھوٹ کی سیٹ پر جگہ پائیں گے۔ اس کے مقابلے میں، دوسرے لوگ وہ ہیں جو موجودہ دنیا میں اس طرح رہیں کہ اُن کا سب سے بڑا کنسرن سچائی ہو، وہ دیانت داری (honesty) کو سب سے زیادہ اہمیت دینے والے ہوں، وہ مفاد پرستی کے بجائے حق پرستی میں جینے والے ہوں، جو وقتی مصلحت کے بجائے اعلیٰ مصلحت کو اہمیت دیتے ہوں، جن کا معیار اصول پسندی ہو، نہ کہ بے اصولی_ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں عزت کے اعلیٰ مقامات پر سربلراز کیے جائیں گے، خواہ دنیا میں بظاہر وہ بے عزت سمجھ لیے گئے ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader