خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 460
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا اور آخرت قرآن میں ایک دعا آئی ہے کہ اے ہمارے رب، ہم کو دنیا میں حسنہ دے، اور آخرت میں حسنہ دے : رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (201)۔ اس کا مطلب کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کو دونوں دنیاؤں کا فائدہ دے۔ یعنی دنیا میں مال دے، اور آخرت میں جنت۔ اسی نظریہ کے تحت ایک ماہانہ پرچہ نکلتا تھا، جس کا نام تھا: فلاح دین و دنیا‘۔ مگر اس دعا کا یہ مطلب نہیں۔ یہاں وہ حسنہ مراد ہے جو اللہ کے نزدیک حسنہ کی حیثیت رکھتی ہو، نہ کہ وہ چیز جس کو آدمی بطور حسنہ سمجھ لے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس دنیا میں جنتی اعمال کی توفیق اور آخرت میں جنت کے اندر داخلہ۔ ایک انسان کے لیے دنیا کا حسنہ یہ ہے کہ اس کو خدا کی معرفت حاصل ہو۔ وہ دین کو اس کے صحیح مفہوم کے ساتھ سمجھ سکے۔ اور رسول کو اپنا غیر مشروط رہنما بنا سکے۔ اور صحابہ کرام کی زندگی کی صورت میں جو معیاری دینی نمونہ قائم کیا گیا ہے اس کو رضا ورغبت کے ساتھ پوری طرح قبول کرے ۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ خدا اس کو ہر قسم کی ذہنی برائیوں سے بچائے وہ دین کی غلط تعبیرات سے بچ کر دین کو اس کے صحیح مفہوم کے ساتھ اختیار کرے۔ اسی طرح وہ اس گمراہی سے محفوظ رہے کہ ذاتی مفاد، ذاتی خواہشیں یا کوئی اور ذاتی رجحان اس کو دین کی شاہراہ سے ہٹادے۔ اس دنیا میں وہ نہ سرکش بنے اور نہ دین کے نام پر بے دینی کو اختیار کرنے والا بن جائے ۔ ہم کو آخرت میں حسنہ دے — اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے انعامات میں ہم کو حصہ دار بنا۔ آخرت میں جنت کی صورت میں ایک ایسی دنیا بننے والی ہے جو آخری حد تک معیاری دنیا ہوگی۔ وہاں آدمی خدا کی رحمت اور مہربانی کے سائے میں جئے گا اور ابدی طور پر ایک ایسی با معنی زندگی حاصل کرے گا جو معنویت اور مسرت اور راحت سے بھر پور ہوگی۔ یہی جنتی زندگی انسان کی اعلیٰ ترین منزل ہے۔ اُس دعا کا مطلب یہ ہے کہ خدایا، تو مجھے دنیا میں اس مطلوب زندگی کی توفیق دے جو مجھ کو آخرت کی جنت کو پانے کا مستحق بنادے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader