خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 464
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کی قیمت قرآن کی سورہ المائدہ کی آیات 85-83 میں ایک گروہ کا ذکر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایمان لایا۔ اُس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ۔ یعنی وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اس کے بعد ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انھیں اس قول کے بدلے جنت دے دی (فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا)۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان لوگوں کو جنت صرف ان کے قول پر دے دی گئی، کیوں کہ اگلی آیت میں ان کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: ذَلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ۔ یہاں یہ نہیں کہا: ذلک جزاء القائلين (یہ بدلہ ہے زبان سے بولنے والوں کا)، بلکہ یہ فرمایا: ذَلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ (یہ بدلہ ہے احسان کی روش اختیار کرنے والوں کا)۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت سادہ معنوں میں صرف قول پر نہیں ہے، بلکہ جنت اُس قول پر ہے جو حقیقی معنوں میں ایک محسن کی زبان سے نکلا ہو۔ قرآن اور حدیث میں جہاں بھی قول پر جنت کا ذکر ہے، اُس سے مراد تلفظ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ قول ہے جو داخلی حقیقت کے اظہار کے طور پر کسی انسان کی زبان سے نکلے۔ مجرد تلفظ ایک منافقانہ فعل ہے۔ اس طرح کے تلفظ پر کسی کو کوئی انعام ملنے والا نہیں۔ لیکن جب ایسا ہو کہ ایک شخص حق کا متلاشی بنا، اس نے غور وفکر کیا، اس نے مطالعہ کیا، پھر اس پر سچائی منکشف ہوئی، اس نے سچائی کو اپنے پورے وجود کے ساتھ قبول کر لیا، پھر سچائی کے بارے میں اس کا یہ داخلی شعور الفاظ کی صورت میں اس کی زبان سے نکل پڑا تو ایسا قول بلا شبہ صرف ایک قول نہیں ہے، بلکہ وہ سرتا پا عمل ہے۔ اور وہ اس قابل ہے کہ اُس پر اس کے کہنے والے کے لیے جنت کا فیصلہ کیا جائے۔ جنت ایک حقیقی انعام ہے اور حقیقی انعام کسی کو ایک حقیقی عمل ہی کے ذریعے مل سکتا ہے، اس سے کم تر درجے کی کوئی چیز جنت کی قیمت نہیں بن سکتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader