خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 463
By Maulana Wahiduddin Khan
جوڑے کا اصول قرآن کی سورہ الذاریات میں آیا ہے: وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (51:49)۔ یعنی اللہ نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ جوڑا (pair) کا تعلق صرف مذکر اور مونث سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ہر چیز سے ہے۔ مثال کے طور پر انسان کو خدا نے متلاشی لذت حیوان (desire-seeking animal) کے طور پر پیدا کیا ہے۔ انسان کے اندر لا محدود قسم کی خواہشیں چھپی ہوئی ہیں۔ لیکن موجودہ زمین پر ان خواہشات کی تکمیل (fulfilment) کا سامان موجود نہیں، گو یا یہاں طالب ہے، مگر اس کا مطلوب یہاں موجود نہیں۔ طالب کا جوڑا (pair) مطلوب ہے۔ جب ساری دنیا کو جوڑے کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے تو سوال یہ ہے کہ انسان کی فطری خواہشوں کا جوڑا کہاں ہے۔ جب ساری دنیا میں جوڑے کا اصول کارفرما ہے تو ضرور ایسا ہونا چاہیے کہ یہاں خواہش (desire) کا جوڑا بھی موجود ہو۔ یہ جوڑ ابلاشبہ موجود ہے اور اسی جوڑے کا نام جنت (paradise) ہے۔ جنت میں تمام خواہشوں اور لذتوں کا جوڑ موجود ہے۔ جنت میں تمام فطری خواہشوں کی تکمیل (fulfilment) کا سامان اعلیٰ ترین صورت میں فراہم کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو دعا کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) دیتا ہے۔ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ خدایا، جب تو نے میری فطرت میں تمام خواہشیں رکھ دیں تو اب تو اُن کی تکمیل کا سامان بھی عطا فرما۔ فانی بدایونی (وفات 1940) اگر اس حقیقت کو جانتے تو وہ اپنے شعر کو کسی قدر تبدیلی کے ساتھ اس طرح کہتے: اپنے دیوانے پہ اتمامِ کرم کر، یا رب جب دیا ذوق طلب، پھر اُسے مطلوب بھی دے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader