خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 466
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کی پہچان قرآن کی سورہ محمد میں سچے اہل ایمان کی بابت آیا ہے: وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (47:6)۔ یعنی اللہ اُن کو جنت میں داخل کرے گا، جس کی اُس نے اُنھیں پہچان کرا دی ہے۔ یہاں جنت کی پہچان سے کیا مراد ہے۔ اس کا جواب قرآن کی دوسری آیت میں ملتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان جب جنت میں داخل ہوں گے، اور وہاں کے پھل اُن کو دئے جائیں گے، تو وہ کہیں گے: هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأْتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا (2:25)۔ یعنی یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا، اور ملے گا اُن کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت اُن لوگوں کے لیے ہے جو موجودہ دنیا کو جنت کی پہچان کے طور پر دریافت کریں۔ موجودہ دنیا میں مطلوب نعمتیں انسان کے لیے رکھی گئی ہیں، لیکن یہاں وہ غیر معیاری صورت میں ہیں۔ غیر معیاری نعمتوں کو دیکھ کر معیاری نعمتوں والی دنیا کو دریافت کرنا، یہی جنت کی پہچان ہے، اور یہی پہچان جنت کی قیمت ہے۔ جو لوگ موجودہ دنیا کو جنت کی پہچان کے طور پر دریافت نہ کریں، وہ عاجلہ کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں (القیامۃ، 75:20)۔ ان کی زندگی کا نظریہ یہیں اور اسی وقت‘‘ right here) (right now کا نظریہ بن جاتا ہے۔ وہ کل (tomorrow) کو چھوڑ کر آج (today) کے اندر اپنی ساری توجہ لگا دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ موجودہ غیر معیاری دنیا میں معیاری جنت کو دریافت کرلیں، ان کی زندگی کا نشانہ یہ بن جاتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر معیاری جنت کو حاصل کریں۔ موجودہ دنیا کے بجائے، اگلی دنیا ان کا اصل کنسرن بن جاتا ہے۔ ان کی پوری زندگی آخرت رخی زندگی ہو جاتی ہے۔ یہی خدا کے سچے بندے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے حقیقت کو دریافت کیا اور اس کو عملاً اپنی زندگی میں اختیار کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر موت آئے گی تو فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور کہیں گے: سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ (39:73)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader