Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 467

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت ایک معلوم دنیا قرآن میں جنت اور اہل جنت کا ذکر کرتے ہوئے آیا ہے : وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (47:6)۔ یعنی خدا ، اہل ایمان کو ایسی جنت میں داخل کرے گا ، جس کی اس نے اُنہیں پہچان کرا دی ہے۔ گویا کہ جنت ایک ایسی جگہ ہے جس کی معرفت ایک باشعور انسان پیشگی طور پر آج ہی کی دنیا میں حاصل کر سکتا ہے۔ موجودہ دنیا میں ، جنت کی معرفت کی دو سطحیں ہیں۔ اس کی پہلی سطح یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور اپنے اندر لامحدود خواہشیں (desires) رکھتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ محسوس کرتا ہے کہ ان خواہشوں کی تکمیل (fulfilment) موجودہ دنیا میں ممکن نہیں۔ عقلی اعتبار سے دیکھئے تو جب خواہشیں حقیقی طور پر موجود ہیں تو ان کی تکمیل بھی حقیقی طور پر قابل حصول ہونا چاہیئے۔ اس طرح ، کسی آدمی کے لیے اپنی خواہشوں (desires) کا علم گویا کہ اُس کے لیے جنت کا آدھا علم ہے۔ نصف جنت کا یہ علم ، انسان کو یہ ماننے پر مجبور کرتا ہے کہ بقیہ نصف جنت بھی فطرت کے نظام میں موجود ہونا چاہیئے ۔ تخلیق خواہش اگر ممکن ہے تو بلا شبہ تکمیل خواہش بھی ممکن ہونا چاہیئے ۔ جنت کی معرفت کی دوسری قسم وہ ہے جو موجودہ سیارۂ زمین کی شکل میں آدمی کے علم میں آتی ہے۔ موجودہ سیارۂ زمین میں ہر قسم کے جنتی سامان موجود ہیں۔ زمین گویا کہ جنت کا ایک جزئی نمونہ ہے۔ کامل جنت کے مقابلے میں، موجودہ سیارۂ زمین ایک ناقص جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح یہ زمین جزئی معنوں میں ، جنت کی موجودگی کا ایک پیشگی تعارف ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page