خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 472
By Maulana Wahiduddin Khan
گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے مکمل انسانی زندگی مراد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جس طرح موجودہ دنیا میں کامل سرگرمی کی زندگی گزارتا ہے، اسی طرح جنت میں بھی وہ ایک کامل سرگرمی کی زندگی گزارے گا، فرق یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی سرگرمیاں غیر معیاری ماحول کے اندر انجام پاتی ہیں، اور جنت میں یہ سرگرمیاں معیاری ماحول کے اندر انجام پائیں گی۔ موجودہ دنیا میں انسان کو حزن (فاطر، 34:35) اور کبد (البلد، 90:4) کے درمیان عمل کرنا پڑتا ہے، لیکن جنت کی تمام سرگرمیاں پر مسرت سرگرمیاں (joyful activities) ہوں گی۔ ☆☆☆☆☆ جنت کا طالب وہ ہے، جو جنت کو دیکھے بغیر جنت کو دیکھنے لگے۔ جو جنت کو پانے سے پہلے جنت کا طالب حقیقی بن جائے۔ طالب جنت کی تصویر قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کی گئی ہے: وَیُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (6: 47)۔ یعنی اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کرا دی ہے۔ اس آیت میں جنت کی معرفت کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ مگر وہ مومن کی صفت ہے۔ مومن وہ ہے، جو جنت کو اس طرح دریافت کرے کہ جنت اس کا شوق بن جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنت کیا ہے، اس سے لوگوں کو پیشگی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صاحب ایمان جنت کے بارے میں اپنی معرفت کو اتنا زیادہ بڑھاتا ہے کہ جنت اس کے لیے پیشگی طور پر ایک معلوم چیز بن جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت ایک ایسا مطلوب ہے، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے طالب جنت کا مثنی (counterpart) ہے۔ وہ فطری طور پر انسان کا ایک معلوم مسکن ہے۔ گویا کہ جنت انسان کے لیے ہے، اور انسان جنت کے لیے۔ لیکن جنت کا شوق جنت کے حصول کے لیے کافی نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ضروری تیاری کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader