خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 471
By Maulana Wahiduddin Khan
بکھرے ہوئے کلمات معرفت بھی اب تک غیر دریافت شدہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا آغاز ہے اور آخرت کی دنیا اس کی تکمیل۔ موجودہ دنیا میں اُن انسانوں کا انتخاب (recruitment) کیا جارہا ہے جو آخرت میں انجام دئے جانے والے تکمیلی عمل کو جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ قیامت میں یہ ہوگا کہ نااہل افراد چھانٹ کر کائناتی کوڑا خانے میں ڈال دئے جائیں گے اور جن لوگوں نے اہلیت ثابت کی ہے، ان کو منتخب کر کے اُس دنیا میں داخل کر دیا جائے گا جس کا نام جنت ہے۔ اس معاملے کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ قیامت سے پہلے کی دنیا نا تمام انسانی تہذیب (human civilization) کی دنیا تھی، اور قیامت کے بعد کامل خدائی تہذیب (divine civilization) کی دنیا بنے گی۔ بظاہر انسانی تہذیب کا دور اپنی آخری حد پر پہنچ چکا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدائی تہذیب بننے کا فائنل عمل شروع ہو جائے، وہ خدائی تہذیب جو ابد تک محیط ہے۔ موجودہ انسانی تہذیب کچھ انسانوں نے اپنی سرگرمیوں کے تحت بنائی تھی۔ اسی طرح بعد کی خدائی تہذیب بھی کچھ خوش قسمت افراد بنائیں گے جن کے ساتھ مزید تعاون کے لیے فرشتے موجود ہوں گے۔ موجودہ دنیا میں تہذیب کے بننے کا عمل مشقت (البلد، 90:4) کے دوران انجام پایا تھا، لیکن خدائی تہذیب کا عمل اس کے برعکس، ایک پرمسرت (joyful) عمل ہوگا، جس کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں موجود ہے: إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاحِكُونَ (36:55) ۔ بیشک اہل جنت آج اپنی دلچسپیوں میں مگن ہوں گے۔ قرآن میں جنت کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأْتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا (2:25)۔ یعنی جب بھی ان کو ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا، اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ جنت کے پھل دنیا کے پھل کی مانند ہوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader