خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 478
By Maulana Wahiduddin Khan
طالب دنیا، طالب آخرت ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: ”إن أخوف ما أتخوف على أمتي الهوى، وطول الأمل، فأما الهوى فيصد عن الحق، وأما طول الأمل فينسي الآخرة، وهذه الدنيا مرتحلة ذاهبة، وهذه الآخرة مرتحلة قادمة، ولكل واحدة منهما بنون، فإن استطعتم أن لا تكونوا من بني الدنيا فافعلوا، فإنكم اليوم في دار العمل ولا حساب، وأنتم غدا في دار الحساب ولا عمل۔“ وفي رواية: ”فإن استطعتم أن تكونوا من الآخرة ولا تكونوا من الدنيا فافعلوا“ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 10132)۔ یعنی سب سے زیادہ ڈر کی بات جس کا مجھے اپنی امت کے بارے میں اندیشہ ہے، وہ خواہش اور لمبی آرزوئیں ہیں۔ خواہش آدمی کو حق سے روک دیتی ہے، اور لمبی آرزوئیں انسان کو آخرت سے غافل کردیتی ہیں۔ یہ دنیا گزرنے والی اور جانے والی ہے۔ اور آخرت چل رہی ہے اور آنے والی ہے۔ اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے طلب گار ہیں۔ اگر تم سے ہو سکے تو تم اپنے آپ کو طالب دنیا ہونے سے بچاؤ۔ کیوں کہ آج تم ایک ایسی دنیا میں ہو، جہاں عمل ہے، لیکن حساب نہیں۔ اور کل تم آخرت کی دنیا میں ہوگے، جہاں حساب ہے، مگر عمل نہیں۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے: اگر تم استطاعت رکھتے ہو کہ آخرت کے انسان بنو، اور دنیا کے انسان نہ بنو، تو ایسا ضرور کرو۔ اس حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کے دو دور ہیں—موت سے پہلے کا دور، اور موت کے بعد کا دور۔ موت سے پہلے کے دور میں تیاری ہے، مگر انجام نہیں۔ اور موت کے بعد کے دور میں انجام ہے، مگر تیاری نہیں۔ انسانی زندگی کے بارے میں اس حقیقت کو جاننا ہی سب سے بڑا علم ہے اور سب سے بڑی دانش مندی۔ تیاری کے بارے میں بنیادی بات یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خواہشوں سے بچائے، جو کہ آدمی کو صراط مستقیم سے ہٹانے والی ہیں۔ اس اعتبار سے انسانوں کی دو قسمیں ہیں—طالب دنیا، اور طالب آخرت، نادان وہ ہے جو طالب دنیا بنے۔ اور دانش مند وہ ہے جو طالب آخرت بنے۔ طالب دنیا کے لیے ابدی ناکامی ہے، اور طالب آخرت کے لیے ابدی کامیابی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader