خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 479
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کی قیمت ایک روایت، معمولی لفظی فرق کے ساتھ، حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آخرت میں ایک جہنمی شخص کو جہنم سے نکالا جائے گا۔ اُس سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنے انجام کو کیسا پایا۔ وہ شخص کہے گا کہ بہت برا انجام۔ پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اگر تمھارے پاس زمین کے برابر سونا ہو تو تم اس سونے کو دے کر اس عذاب سے نجات حاصل کرنا چاہو گے۔ وہ کہے گا کہ ہاں۔ پھر اس سے کہا جائے گا : قد کنتُ سُئلتَ ما ھو أیسر من ذلك ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 6538)۔ یعنی دنیا میں تم سے اس سے بہت کم کا مطالبہ کیا گیا تھا، مگر تم نے اس کو پورا نہیں کیا۔ اس حدیث میں ’’أیسر‘‘ (کم) سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد اعتراف ہے۔ اگر انسان سے جنت کی قیمت کے طور پر سونا مانگا جائے، تو وہ جنت کی مادی قیمت ہوگا۔ لیکن انسان سے اس طرح کی کوئی مادی قیمت (material price) نہیں مانگی گئی۔ انسان سے جو کچھ مانگا گیا، وہ صرف اعتراف (acknowledgement) تھا، مگر انسان غیر اللہ میں اتنا زیادہ مشغول رہا کہ وہ اعتراف کی یہ قیمت ادا نہ کر سکا۔ اعتراف کیا ہے، اعتراف کوئی سادہ چیز نہیں، وہ ہمیشہ دریافت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب ایک انسان گہرے غور و فکر سے کام لیتا ہے، تو اُس پر ربانی حقیقتیں منکشف ہونے لگتی ہیں۔ وہ ایک طرف، اللہ کی معرفت حاصل کرتا ہے، اور دوسری طرف وہ تخلیقِ الہی کی حقیقتوں کو دریافت کرتا ہے۔ اس کو جنت اور جہنم کا شعور حاصل ہوتا ہے۔ یہ دریافتیں اس کے ذہن میں ایک فطری بھونچال پیدا کر دیتی ہیں۔ اس شعور اور اس کیفیت کے ساتھ کسی کی زبان پر اعترافِ خداوندی کا جو کلمہ جاری ہو، وہی اعتراف اس کے لیے جنت میں داخلے کا استحقاق پیدا کرے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader