خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 482
By Maulana Wahiduddin Khan
اہلِ جنت کون صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں ایک حدیث آئی ہے۔ اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ جہنم میں جانے والے زیادہ تر سرکش اور متکبر ہوں گے اور جنت میں جانے والے زیادہ ضعیف اور کمزور ہوں گے۔ تحاجّت الجنّة والنّار۔ فقالت النار: أُوثرتُ بالمستكبرين والمتجبرين- وقالت الجنة:مالي، لا يدخلني إلا ضعفاء الناس وسقطهم (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4850؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2846)۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کوئی پر اسرار بات نہیں، اس میں دراصل انسانی تاریخ کے ایک تجربے کو بیان کیا گیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے انسانوں کو انسان قوی کی حیثیت سے پیدا کیا، یعنی ایسے لوگ جو اپنے ذہن اور اپنی صلاحیت کے اعتبار سے اعلیٰ شخصیت کے مالک تھے۔ مگر اس کے ساتھ اُن کو امتحانی مصلحت کی بنا پر آزادی حاصل تھی۔ اپنی آرزوؤں کا غلط استعمال کرتے ہوئے وہ سرکش اور متکبر بن گئے۔ اس طرح انھوں نے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنا لیا۔ اس کے برعکس، اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو ضعیف انسان کی حیثیت سے پیدا کیا۔ اُن کو بھی امتحانی مصلحت کی بنا پر آزادی حاصل تھی، لیکن اپنے فطری ضعف کے باعث وہ متواضع (modest) بن گئے۔ اپنے ضعف کی تلافی کے لیے وہ زیادہ سے زیادہ اللہ کو یاد کرنے والے بن گئے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ اُن کے لیے عملاً اس کے سوا کوئی اور انتخاب (choice) ممکن نہ تھا۔ اس طرح ضعفاء کے اندر وہ صفات پیدا ہوئیں جو انھیں جنت میں داخلے کے قابل بنانے والی تھیں۔ تاہم اس میں استثناء بھی ممکن ہے۔ مثلاً حضرت عمر فاروق انتہائی قوی انسان کی حیثیت سے پیدا ہوئے تھے، لیکن ان کے ایمان نے ان کو انتہائی متواضع انسان بنا دیا۔ اسی طرح ایسے افراد ہو سکتے ہیں جو جسمانی اعتبار سے آخری حد تک ضعیف ہوں، لیکن ذہن کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ اُن کو آخری حد تک قوی بنا دے، تا کہ ضعف کے باوجود اعلیٰ معرفت کا حصول اُن کے لیے ممکن ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader