Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 483

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان اور جنت حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : ألا كلكم يدخل الجنة إلا من شر د علی الله شراد البعير على أهله (مسند احمد، حدیث نمبر 22226)۔ یعنی تم سب لوگ جنت میں داخل ہوگے، سوا اُس کے جو اللہ سے بھاگا جیسے اونٹ اپنے مالک سے بدک کر بھاگتا ہے۔ اللہ نے انسان کو اصلاً جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسان جیسی مکرم مخلوق کا مقام صرف جنت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اور جنت دونوں ایک دوسرے کا مَثنّی (counter part) ہیں۔ انسان جنت کے لیے ہے، اور جنت انسان کے لیے۔ اللہ نے جنت میں داخلے کے لیے جو شرط مقرر کی ہے، وہ انتہائی حد تک قابل عمل ہے، وہ کسی بھی درجے میں انسان کے لیے نا قابل عمل نہیں۔ وہ شرط یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جس فطری حالت پر پیدا کیا ہے۔ اُسی فطری حالت پر روئے اور پھر اسی فطری حالت کے ساتھ وہ اللہ تک پہنچ جائے ۔ اسی فطری حالت کو قرآن میں قلبِ سلیم کہا گیا ہے (الشعراء، 26:89 ؛ الصافات، 37:84)۔ جنت میں داخلے کی واحد شرط یہی ہے کہ آدمی قلبِ سلیم والا ہو، یعنی وہ خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت پر قائم رہے، وہ اس سے انحراف نہ کرے ۔ یہ خدائی فطرت ہر انسان کو الہام کر دی گئی ہے (الشَّمس، 91:8)۔ اگر آدمی اپنے آپ کو ڈسٹرکشن (distraction) سے بچائے ، تو وہ یقینی طور پر اپنی اس فطرت کو پہچان لے گا۔ ہر انسان کے اندر ضمیر (conscience) موجود ہے۔ یہ ضمیر اسی خدائی فطرت کی ایک داخلی علامت ہے۔ خدا کے پیغمبر اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو اس فطرت سے باخبر کریں، تا کہ جو چیز لاشعور کی سطح پر انسان کے اندر موجود ہے، اس کو وہ شعور کی سطح پر دریافت کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جنت کے لیے ہے، اور جنت انسان کے لیے ۔ اس میں استثنا (exception) صرف اُس شخص کا ہے جو خود ہی اپنے آپ کو بھٹکا کر جنت کے سوا کسی اور منزل کا مسافر بن جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page