معرفت الہی
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت کی تفصیلات (details) بیان نہیں کی گئی ہیں۔ معرفت کا مادہ (root) ع، ر، ف ہے۔ اس کے مشتقات (derivatives) قرآن میں تقریباً 70 بار آئے ہیں، مگر کہیں بھی معرفت کی تفصیل مذکور نہیں۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ المائدہ میں یہ آیت آئی ہے: ﴿وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ﴾ (5:83)۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ایک گروہ کو کلام اللہ سن کر معرفت ملی، لیکن قرآن کے اس بیان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ متعین طور پر وہ معرفت کیا تھی جو اس گروہ کو حاصل ہوئی۔ قرآن کی ان دونوں آیتوں کے تقابل سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ معرفت، فقہی مسئلہ جیسی کوئی چیز نہیں ہے جس کو تعین کی زبان (specific language) میں بیان کیا جا سکے۔ معرفت ایک ایسی چیز ہے جو ذاتی دریافت (self-discovery) کے طور پر کسی کو حاصل ہوتی ہے۔ معرفت یا تو خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered reality) کے طور پر حاصل ہوگی، یا پھر وہ سرے سے حاصل ہی نہ ہوگی۔ معرفت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے طالبِ معرفت کے لیے وہی طریقہ رکھا ہے جس کو فنِ تعلیم میں ڈسکوری مٹھڈ (discovery method) کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت ایک ایسی چیز ہے جس کو آدمی خود اپنے غور و فکر سے دریافت کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کہ معرفت ایک اجتہادی موضوع ہے، وہ تقلیدی موضوع نہیں۔ معرفت کے حصول کے لیے تخلیقی ذہن (creative mind) درکار ہے۔ معرفت کسی شخص کو لمبی فکری جدوجہد کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ معرفت ایک ذاتی دریافت ہے، معرفت کسی ایسے مقرر کورس کے ذریعے حاصل نہیں ہوتی جو آپ نے کسی شخص کے بتانے سے جانا ہو، جو آپ نے کسی شخص سے بطور تقلید حاصل کیا ہو۔ معرفت ایک تخلیقی موضوع معرفت کا کوئی سیٹ کورس (set course) نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اوراد و وظائف یا ذکر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader