Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

و اشتغال کا کوئی بنا بنایا طریقہ ہے ، جو شخص بھی اس کو دہرائے ، اُس کو اپنے آپ معرفت حاصل ہو جائے گی ۔ اس قسم کا کوئی نظریہ معرفت خداوندی کی تصغیر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت ایک تخلیقی موضوع (creative subject) ہے ۔ معرفت کے لیے اجتہادی ذہن درکار ہے ۔ معرفت ایک طوفانی تجربہ ہے۔ معرفت کسی شخص کو ذاتی دریافت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ جو معرفت کسی تقلیدی فارم کے دہرانے سے حاصل ہو ، وہ کچھ اور چیز ہو سکتی ہے ، وہ معرفت نہیں ہو سکتی ۔ جس خدا کی صفت ہو : (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (29 :55)۔ یعنی وہ ہر دن نئی شان میں ہے ۔ اس کی معرفت کسی جامد یا تقلیدی کورس کے ذریعے حاصل نہیں کی جا سکتی ۔ جس چیز کو سیکولر اصطلاح میں تخلیقی فکر (creative thinking) کہا جاتا ہے ، مذہب کی زبان میں اُسی کا نام اجتہادی فکر ہے ۔ اجتہادی فکر کا مطلب آزادانہ سوچ نہیں ہے ، اجتہادی فکر کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے بیانات میں چھپے ہوئے معانی کو دریافت کیا جائے۔ معانی کی یہ دریافت اجتہادی فکر کے ذریعے ہوتی ہے۔ اسی اجتہادی فکر سے اعلیٰ معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہ خدائی کتاب (قرآن) اس لیے اتاری گئی ہے ، تا کہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں ، وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے اُس سے نصیحت حاصل کریں (ص ، 38:29) ۔ اِسی غور و فکر پر مبنی نصیحت کا دوسرا نام معرفت ہے۔ اجتہادی معرفت کے حصول میں قرآن کی حیثیت ایک رہنما کتاب کی ہے۔ معرفت کے بنیادی اصول قرآن میں بتا دئے گئے ہیں۔ ان بنیادی اصولوں کی رہنمائی میں غور کر کے اُن کے اندر چھپے ہوئے معانی کو دریافت کرنا یہی اجتہاد ہے۔ اور اسی اجتہادی عمل کے ذریعے اعلیٰ معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔ معرفت کا سفر قرآن میں خدا کی قدرت کو بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں : (إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (36:82) یعنی خدا جب کسی چیز کو وجود میں لانا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہو جا اور پھر وہ چیز ہو جاتی ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page