Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 489

By Maulana Wahiduddin Khan

اعتراف عجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے قدیم عرب میں ایک شخص پیدا ہوا۔ اُس کا نام عبداللہ بن جدعان تھا۔ وہ نہایت شریف (noble) اور سخی (generous) آدمی تھا۔ وہ کثرت سے لوگوں کو کھلاتا تھا اور لوگوں کی مدد کرتا تھا۔ اس کے بارے میں ایک روایت حسب ذیل الفاظ میں آئی ہے : عن عائشة قلت : یا رسول الله، ابن جدعان كان في الجاهلية يصل الرحم، ويطعم المسكين، فهل ذاك نافعه؟ قال: لا ينفعه، إنه لم يقل يوما: رب اغفر لي خطيئتي يوم الدين ۔ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 214)۔ یعنی حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول، عبداللہ بن جدعان جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا، مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ کیا اس کا یہ عمل قیامت کے دن اس کو فائدہ پہنچائے گا۔ آپ نے کہا: یہ چیزیں اس کو نفع نہیں دیں گی ، کیوں کہ اس نے کسی دن یہ نہیں کہا کہ اے میرے رب ، جزا (قیامت) کے دن میرے گناہ کو بخش دے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے جو چیز مطلوب ہے، وہ کیا ہے۔ اللہ کی یہ مطلوب چیز اعتراف (acknowledgement) ہے۔ بندہ جب اپنی بندگی اور خدا کی خدائی کی معرفت حاصل کرتا ہے تو اس کے اندر شدید طور پر اپنی عاجزی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ خدا کی عظمت اور کمال کے سامنے اُس کو اپنا وجود سراپا تقصیر نظر آنے لگتا ہے ۔ یہ عارفانہ احساس اُس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خدا کے آگے گرپڑے ۔ وہ خدا سے رحمت اور بخشش کی التجا کرنے لگے۔ ” رب اغفر لي خطيئتي “ (خدایا مجھے بخش دے) عجز کا کلمہ ہے، اور عجز کا کلمہ ہی جنت کی آخری قیمت ہے۔ جس آدمی کے پاس نہ عمل ہو اور نہ اعتراف بے عملی تو اُس کو جنت میں داخلہ آخر کس بنیاد پر دیا جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page