Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 488

By Maulana Wahiduddin Khan

طالب جنت، ہارب جہنم ایک حدیثِ رسول کا ترجمہ یہ ہے: میں نے نہیں دیکھا جہنم کے مثل جس سے بھاگنے والا (ہاربھا) سویا ہوا ہے، اور نہ جنت کے مثل، جس کا چاہنے والا (طالبھا) سویا ہوا ہے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2601)۔ اس حدیث میں ہارب نار (جہنم سے بھاگنے والا) اور طالب جنت (جنت کا چاہنے والا) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ اسلوب بہت با معنی اسلوب ہے۔ اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی کی تخلیق اس ڈھنگ پر کی گئی ہے کہ وہ عین اپنی فطرت کے اعتبار سے ہارب جہنم اور طالب جنت بنے۔ اگرچہ اپنی فطرت سے انحراف کر کے وہ اس سے مختلف انسان بن جاتا ہے۔ انسان تکلیف کو برداشت نہیں کر پاتا۔ کسی بھی قسم کا دکھ انسان کے لیے آخری حد تک ناپسندیدہ چیز ہے۔ انسان کا حال یہ ہے کہ وہ راحت کو دل و جان سے چاہتا ہے، وہ خوشی اور لذت کا انتہائی حد تک دلدادہ ہے۔ چناں چہ اس کی پوری زندگی انھیں دو چیزوں کے گرد گھومتی ہے، یعنی مصیبت سے اپنے آپ کو بچانا، اور دنیا کی راحت کو اپنے لیے جمع کرنا۔ مگر تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے نہ تو یہ ممکن ہے کہ وہ تکلیف اور مصیبت سے اپنے آپ کو مکمل طور پر بچالے، اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ راحت اور خوشی کو حقیقی معنوں میں اپنے لیے حاصل کرلے۔ آدمی ساری زندگی اسی کی دوڑ دھوپ میں لگا رہتا ہے، مگر آخر کار اُس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ نہ مصیبتوں سے محفوظ زندگی حاصل کرتا ہے اور نہ وہ آرام و راحت کی دنیا اپنے لیے بنا پاتا ہے۔ ایک طرف انسان کا یہ جذبہ ہے، اور دوسری طرف موجودہ دنیا میں اُمُ کا ناقابلِ حصول ہونا۔ اِن دونوں باتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس جذبے کا اصل رخ آخرت کی طرف تھا، مگر انسان نے انحراف کر کے اُس کا رخ دنیا کی طرف موڑ دیا۔ انسان کی فطرت ہر لمحہ پکار رہی ہے کہ اے انسان، تو ہارب جہنم اور طالب جنت بن۔ کامیاب وہ ہے جو اس آواز کو سُن کر اس کی پیروی کرے۔ نا کام وہ ہے جو اس آواز کو نہ سنے اور آخر کار وہ ابدی حسرت اور مایوسی کے گڑھے میں جا گرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page