خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 502
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کی دعا جنت کے لیے سب سے زیادہ مؤثر دعا کیا ہے، یہ وہ دعا ہے جو کسی ایسے پوائنٹ آف ریفرنس کے حوالے سے کی گئی ہو جو خدا کی رحمت کو انووک (invoke) کرنے والی ہو۔ دعا کی یہی وہ قسم ہے جس کو حدیث میں اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا بتایا گیا ہے۔ ایسی دعا کسی انسان کی زبان سے اُس وقت نکلتی ہے جب کہ وہ شب و روز اسی میں جی رہا ہو۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ فاطر میں بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان جب جنت میں داخل کیے جائیں گے تو وہ کہیں گے : اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34) - اس آیت کو پڑھ کر آپ کا شعور آپ کو یاد لائے کہ موجودہ دنیا بھی جنت کی مانند ہے (البقرۃ ، 2:25)۔ فرق صرف یہ ہے کہ موجودہ دنیا جنت مع الحزن (paradise with sorrow) ہے، جب کہ آخرت کی جنت جنت بغیر الحزن (paradise without sorrow) ہوگی ۔ پھر آپ کو یاد آئے کہ موجودہ حزن والی دنیا امتحان کی مصلحت کی بنا پر ہر ایک کو دی گئی ہے، جب کہ آخرت کی بے حزن دنیا صرف کچھ خوش قسمت انسانوں کو ملے گی ۔ اب اس تصور کو لے کر آپ قرآن اس آیت کو پڑھیں: اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى ، تِلْكَ إِذاً قِسْمَةٌ ضِيزَى (53:21-22) - اس آیت پر غور کرتے ہوئے آپ کو اپنا معاملہ یاد آئے اور آپ تڑپتے ہوئے الفاظ میں یہ دعا کریں : خدایا، تو یہ ناپسند کرتا ہے کہ انسان غیر منصفانہ تقسیم (unfair division) کریں، پھر کیا تو خود ایسا کرے گا کہ دنیا کی زندگی میں تو مجھ کو حزن والی جنت دے، اور آخرت میں برعکس معاملے کرتے ہوئے تو اُس جنت کو مجھ سے چھین لے، جب کہ کچھ اور لوگوں کے ساتھ تو ایسا کرے کہ دنیا میں اُن کو حزن والی جنت دے، اور آخرت میں تو اُن کو حزن سے خالی جنت عطا کر دے۔ میں تجھ سے یہ امید کرتا ہوں کہ تو جس سلوک کو انسان کے لیے ناپسند کرتا ہے، اِس کو تو میرے معاملے میں اختیار نہیں کرے گا۔ تو نے جس طرح مجھ کو دنیا میں حزن والی جنت دی ہے، اسی طرح تو مجھ کو آخرت میں حزن سے خالی جنت بھی عطا فرما دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader