Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 504

By Maulana Wahiduddin Khan

معرفت، جنت دنیا میں آخری قابلِ یافت چیز معرفت ہے، اور آخرت میں آخری قابلِ یافت چیز جنت۔ معرفت کیا ہے، معرفتِ حقیقتِ اعلیٰ کو دریافت کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اس حقیقتِ اعلیٰ کا علم بالقوہ طور پر (potentially) ہر آدمی کے اندر موجود ہے۔ اسی بالقوہ کو بالفعل (actual) بنانے کا دوسرا نام معرفت ہے۔ جو آدمی دریافت کے اس اعلیٰ درجے تک پہنچ جائے، اُس کو عارف (realized person) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں بسائے جائیں گے۔ جنت دراصل دار العارفین ہے، جہاں یہ اصحابِ معرفت خدا کی رحمت سے، ابدی طور پر بسائے جائیں گے۔ معرفت محض ایک نظریاتی علم کا نام ہے— معرفت دراصل ایک فکری طوفان کا نام ہے، معرفت ایک ایسا انقلابی تجربہ ہے، جو انسان کی شخصیت کی تشکیل میں سب سے بڑے عامل (factor) کی حیثیت رکھتا ہے۔ معرفت ہی کے ذریعے وہ اعلیٰ شخصیت بنتی ہے جو جنت کے اعلیٰ درجات میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ قرآن میں جنت کو خداوندِ ذو الجلال کا پڑوس بتایا گیا ہے۔ ایسی لطیف اور نفیس جنت میں قیام کرنے کے قابل صرف وہ افراد ہوتے ہیں جو اس کے لیے موزوں بن سکیں ۔ انسانی زبان میں یہ کہ وہ اعلیٰ درجے میں خدا شناس بن چکے ہوں۔ وہ خداوندِ عالم کے ہم ذوق ہوں۔ وہ اپنے اندر خدائی اخلاقیات رکھتے ہوں۔ وہ آخری حد تک نو پرابلم انسان (no problem) بن چکے ہوں، جو قرآن کے ان الفاظ کا مصداق ہوں: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (5:119)۔ یعنی اللہ ان سے راضی ہوا، اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ ایسے ہی لوگ اصحابِ معرفت ہیں۔ ایسے ہی لوگ جنت کے دار العارفین میں عزت اور آرام کی جگہ پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ معرفت سے خالی ہوں، اُن کو رد کر کے کائنات کے ابدی کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے، جہاں وہ حسرت کے عذاب کو بھگتتے رہیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page