خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 508
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کا انعام موجودہ دنیا اور آخرت کی دنیا کا فرق یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں ’نماز روزہ‘ کرو اور اپنی خاص طرح کی شناخت (identity) بنالو اور اس کے بعد آخرت میں جنت کا انعام حاصل کرو۔ اصل یہ ہے کہ اہل ایمان کو موجودہ دنیا میں اپنے اندر مربّی شخصیت (purified personality) بنانا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ملے گا کہ وہ جنت کی پر کیف سرگرمیوں (joyful activities) میں پُراعزاز کردار (role) ادا کرنے کے لیے منتخب کئے جائیں گے۔ جنت صرف ایک عیش کدہ نہیں ہے، بلکہ جنت پر مسرت سرگرمیوں کا ایک وسیع مقام ہے۔ ان سرگرمیوں کو ایک لفظ میں ، ربانی سرگرمیاں (devine activites) کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کی سرگرمیاں محدود و مادی سرگرمیاں (material activities) تھیں۔ آخرت کی جنت میں انسان کی سرگرمیاں لامحدود و ربانی سرگرمیاں ہوں گی جو ابدی طور پر بلا انقطاع جاری رہیں گی۔ جنت کی یہ اعلی سرگرمیاں منتخب ربانی افراد، فرشتوں کی مدد سے انجام دیں گے۔ ان سرگرمیوں کے دوران جنتیوں کو اعلیٰ در یافتیں ہوں گی، ان کو اعلیٰ روحانی تجربات ہوں گے، ان کو اعلیٰ مشاہدات حاصل ہوں گے، وہ وہاں اعلیٰ صحبتوں کا ماحول پائیں گے، وہ ایک کائناتی ماحول میں اعلیٰ ربانی کارنامے انجام دیں گے، وہ جنت میں نعمت اور اقتدار (سورۃ الانسان، 76:20) کے اُن اعلیٰ درجات کا تجربہ کریں گے جن کا اس دنیا میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اسی حقیقت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فِیهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ (صحیح مسلم، رقم الحدیث 2825) یعنی جنت کے اندر وہ چیز ہوگی جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader