Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 509

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کیا ہے ایک نوجوان کو جدید طرز کی لگری کار (luxury car) ملی۔ وہ اُس کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ جب وہ اس لگری کار کے اندر داخل ہو کر اس کی آرام دہ سیٹ پر بیٹھا تو اُس نے کہا۔ میں اپنے آپ کو بادشاہ کی طرح محسوس کر رہا ہوں : I feel like a king. دوسرا انسان وہ ہے جس نے اس جدید طرز کی لگری کار کو دیکھا تو وہ یہ سوچ کر حیرانی میں پڑ گیا کہ کیا زبردست وہ انجینئرنگ مائنڈ (engineering mind) ہوگا جس نے اس شان دار کار کا منصوبہ بنایا اور پھر اس کو عملاً تیار کر لیا۔ اس مثال میں پہلا انسان اپنی ذات میں جی رہا ہے، اور دوسرا انسان انجینئر کی ذات میں۔ پہلا انسان کار میں خوش ہے، اور دوسرا انسان کار بنانے والے کے کمالات کا اعلیٰ اعتراف کر رہا ہے۔ اس مثال سے جنت کے معاملے کو سمجھا جاسکتا ہے۔ جنت میں داخل ہونے والے دو قسم کے لوگ ہوں گے۔ ایک وہ جو جنت کی نعمتوں کو پا کر خوش ہوں، جو جنت کی پُرراحت زندگی میں گم ہو جائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مخلص شخصیت کے حامل تھے، لیکن وہ اعلیٰ معرفت کے درجے کو نہ پہنچ سکے۔ دوسرے اہل جنت وہ ہیں جو اعلیٰ معرفت کی سطح پر مومن بنے ہوں۔ یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو وہ جنت بنانے والے کے کمالات میں سرشار رہیں گے۔ وہ سوچیں گے کہ وہ خدا کتنی قدرت والا خدا ہے جس نے انسان کے اندر لذت کا احساس پیدا کیا اور پھر لذت کے تمام سامانوں کی تخلیق کی اور پھر جنت کی وہ آئیڈیل دنیا بنائی جہاں احساس لذت اور سامان لذت دونوں اکٹھا ہوں اور وہ ابدی طور پر خوف اور حُزن سے خالی زندگی گزارتے رہیں۔ احساس لذت اور سامان لذت دونوں، خدا کی تخلیق ہیں۔ اسی طرح جنت بھی خدا کی ایک تخلیق ہے۔ جنت کا تجربہ بلاشبہ خدا کی معرفت کا اعلیٰ تجربہ ہوگا۔ جنت کی معرفت اس کا اولین پہلو ہے، اور جنت کی راحت اس کا ثانوی پہلو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page