معرفت الہی
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی قدرت اتنی زیادہ ہے کہ وہ چیزوں کو ایک لمحے کے اندر وجود میں لا سکتا ہے، مگر تخلیق کی تاریخ بتاتی ہے کہ خدا نے ایسا نہیں کیا۔ جدید سائنس کی دریافت کے مطابق، موجودہ کائنات کی عمر تقریباً 15 نلین سال ہے۔ خدا نے سب سے پہلے تمام کائناتی ذرات کا مجموعہ بنایا۔ اس مجموعے کو سپرایٹم (super atom) کہا جاتا ہے۔ پھر اس سپر ایٹم میں دھماکہ (explosion) ہوا۔ اور ججمے ہوئے ذرات منتشر ہو کر وسیع خلا میں پھیل گئے۔ پھر ان ذرات نے ستاروں اور سیاروں کی شکل اختیار کی۔ اس کے بعد نظام شمسی (solar system) بنا۔ پھر اسی نظام شمسی کے اندر موجودہ زمین کی تشکیل ہوئی۔ پھر دو گیسوں کے ملنے سے سیال (liquid water) وجود میں آیا۔ اس کے بعد نباتات اور حیوانات کا ظہور ہوا۔ آخر میں انسان کو پیدا کر کے اُس کو زمین پر بسایا گیا۔ یہ پورا واقعہ اگر ایک تخلیقی کرشمہ کے طور پر اچانک ایک لمحے کے اندر ظہور میں آتا تو وہ انسان کے لیے صرف تحیّر (bewilderment) کا سبب ہوتا، وہ انسان کے لیے غور و فکر کا ذریعہ نہ بنتا۔ خالق نے ایسا کیا کہ کائنات کو ایک لمحے میں پیدا کرنے کے بجائے، ایک لمبے عمل (process) کے ذریعے پیدا کیا۔ کائنات کی تخلیق میں بے شمار عوامل (factors) شامل ہو گئے۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ انسان کائنات پر غور کرے اور لامناہی طور پر وہ اس کے قوانین کو دریافت کرتا رہے۔ اس طرح کائنات، انسان کے لیے ابدی معرفت کا ذریعہ بن گئی۔ انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ صبح وشام کائنات میں چھپے ہوئے تخلیقی عمل پر غور کرے۔ اسی طرح وہ مسلسل طور پر خدا کے تخلیقی کرشموں کو دریافت کرتا رہے، اس کا سفرِ معرفت کبھی ختم نہ ہو۔ معرفت کا خزانہ قرآن میں کلمات اللہ (31:27) کا ذکر ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے ان کلمات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کی گنتی کی جائے تو اُن کی گنتی کبھی ختم نہ ہو۔ یہ کلمات اللہ کیا ہیں، یہ کوئی مبہم چیز نہیں۔ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو اسرارِ کائنات (mysteries of the universe) کہا جاتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader