Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 512

By Maulana Wahiduddin Khan

فطرت میں تضاد وسیع کائنات میں صرف ایک سیارہ ہے جو انسانی زندگی کے لیے سازگار ہے۔ یہ سیارہ زمین ہے۔ حال میں امریکا کے ایک سائنسی ادارے نے تحقیق کر کے بتایا ہے کہ انسان جس طرح زمین کے وسائل کو استعمال کر رہا ہے، اس رفتار کے مطابق، موجودہ زمین 2030 تک انسان کے لیے ناقابل رہائش ہو جائے گی۔ اس کے بعد زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کا موجودہ نظام اتنا زیادہ بگڑ جائے گا کہ یہاں انسان اور زندگی کی دوسری انواع کا تقریبا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس معاملے کا ایک سنگین نظریاتی پہلو ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے لامحدود خواہشیں رکھتا ہے، لیکن اس کائنات میں جو واحد دنیا انسان کو رہنے کے لیے ملی ہے، وہ صرف محدود ذرائع حیات کی حامل ہے۔ دونوں کے درمیان یہ تضاد اب ایک ثابت شدہ حقیقت بن چکا ہے۔ جس خالق نے انسان کو بنایا ہے، وہی خالق زمین کو بنانے والا بھی ہے، پھر ایک ہی خالق کی دو مخلوق کے درمیان یہ تضاد کیوں۔ یہ تضاد آخرت کے تصور کے حق میں ایک واضح دلیل ہے۔ اس فرق کی توجیہہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی کہ خالق نے انسان کی زندگی کو دو دوروں میں تقسیم کر دیا ہے— موت سے پہلے کے دور حیات کے لیے خالق نے موجودہ زمین بنائی، اور موت کے بعد کے دور حیات کے لیے خالق نے ایک اور دنیا تعمیر کی جس کو آخرت (hereafter) کی دنیا کہا جاتا ہے۔ تضاد کے اس معاملے کی توجیہہ خالق کے تخلیقی پلان سے ملتی ہے۔ خالق کا تخلیقی پلان یہ ہے کہ موجودہ غیر معیاری دنیا میں ہر عورت اور مرد کو آباد ہونے کا موقع ملے، لیکن آخرت کی معیاری دنیا میں صرف اُن لوگوں کو بسایا جائے جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو اِس کا اہل ثابت کریں۔ موجودہ دنیا میں یہی انتخاب ہو رہا ہے۔ آخری فیصلہ لوگوں کے اپنے قول و عمل کے ریکارڈ کے مطابق ہوگا۔ دانش مند وہ ہے جو اپنے آپ کو آخرت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کا اہل ثابت کرے۔ نادان وہ ہے جو موجودہ موقع کو غفلت میں ضائع کردے اور آخر میں اس کے پاس حسرت اور افسوس کے سوا کچھ اور باقی نہ رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page