Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 511

By Maulana Wahiduddin Khan

زمین کی وراثت مچھلی ایک زندہ جاندار ہے۔ مچھلی اپنے آپ میں ایک مکمل وجود ہے، لیکن مچھلی کو زندہ رہنے کے لیے ایک موطن یا فطری جائے رہائش (habitat) درکار ہے۔ مچھلی کو اگر پانی سے نکال کر صحرا (desert) میں ڈال دیا جائے تو وہ بدستور مچھلی ہوگی، لیکن وہاں وہ صرف تڑپتی رہے گی۔ صحرا کے ماحول میں اس کو زندگی کی نعمت حاصل نہ ہو سکے گی۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان مکمل معنوں میں ایک زندہ وجود ہے۔ لیکن حقیقی معنوں میں زندہ رہنے کے لیے اس کو ایک موطن (habitat) درکار ہے۔ موجودہ زمین انسان کے لیے اسی قسم کا ایک موطن ہے۔ انسان کرۂ ارض پر ہی حقیقی معنوں میں زندہ رہ سکتا ہے اور ترقی کر سکتا ہے۔ انسان کو اگر موجودہ زمین سے نکال کر چاند جیسے کسی کرہ پر ڈال دیا جائے تو انسان وہاں بے آب مچھلی کی طرح تڑپے گا۔ وہ ایک قسم کی زندہ لاش بن کر رہ جائے گا۔ موجودہ دنیا انسان کے لیے ایک ایسا معلوم واقعہ ہے جس کی روشنی میں وہ جنت اور جہنم کے معاملے کو پوری طرح سمجھ سکتا ہے۔ غور کیجئے تو موجودہ زمین میں وہ تمام چیزیں موجود ہیں جن کو جنت کی صفت بتایا گیا ہے۔ مثلاً یہاں کے قدرتی مناظر میں اتنا حسن ہے کہ آدمی جب اس کو دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ دور سے جنت کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں اچھے انسانوں کے ساتھ برے انسان بھی آباد ہیں۔ یہ برے انسان زمین کو ہر قسم کے فساد سے بھر دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہو کہ زمین سے برے انسان نکال دئے جائیں اور صرف اچھے لوگ یہاں آباد ہوں تو یہ زمین جنت کا نمونہ بن جائے گی۔ یہی بات ایک اسرائیلی پیغمبر کی زبان سے ان الفاظ میں آئی ہے: دنیا کے آخر میں فرشتے نکلیں گے اور شریروں کو راست بازوں سے جدا کریں گے اور اُن کو آگ کی بھٹی میں ڈال دیں گے۔ وہاں رونا اور دانت پیسنا ہوگا (متی 50-49 : 13) یہی بات حضرت داؤد کے مزامیر میں اس طرح آئی ہے: صادق زمین کے وارث ہوں گے ۔ اور وہ اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔ (زبور 29 : 37)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page