Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 514

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا اور آخرت کا فرق موجودہ دنیا انسان کے چارج میں دی گئی ہے۔ یہاں کی تمام سرگرمیاں انسان کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔ موجودہ دنیا انسانی تعلقات پر مبنی ہے۔ براہ راست یا بالواسطہ طور پر تمام عورت اور مرد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں ایک کا کام دوسرے سے بنتا ہے۔ یہی اجتماعیت خاندان اور سماج اور قوم تینوں سطح پر قائم ہے۔ مگر آخرت کی دنیا اس سے بالکل مختلف ہوگی۔ آخرت کی دنیا میں بھی آج کی طرح سب کچھ ہوگا، لیکن آخرت کی دنیا کے انچارج فرشتے ہوں گے۔ آخرت کی دنیا میں اہل جنت کو انعام ملے گا، اور اہل جہنم کو سزا۔ لیکن دونوں صورتوں میں انتظامی بندوبست مکمل طور پر فرشتوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ موجودہ دنیا میں آدمی دیکھتا ہے کہ اس کا کام بنانے کے لیے ہر جگہ اُس کو انسان مل جاتے ہیں۔ ہر سطح پر ایسے افراد مل جاتے ہیں جو ایک دوسرے کا کام انجام دیتے رہیں۔ موجودہ دنیا کی یہ صورت حال آدمی کو غفلت میں مبتلا رکھتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا رہتا ہے کہ موجود دنیا میں جس طرح اُس کا کام رشتے داروں اور غیر رشتے داروں کے ذریعے انجام پا رہا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی اس کے تمام کام انجام پاتے رہیں گے۔ مگر یہ سخت قسم کی غلط فہمی ہے۔ آخرت کی دنیا میں وہ تمام انسانی تعلقات ٹوٹ جائیں گے جو آج ہر سطح پر نظر آرہے ہیں۔ آخرت کے تمام کام فرشتے انجام دیں گے۔ یہ فرشتے صرف وہی کریں گے جس کا خدا نے اُن کو حکم دیا ہے (وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ) سورۃ التحریم، 6:66۔ یہ صورت حال بے حد سنگین ہے۔ موجودہ دنیا کی حالت پر قیاس کرتے ہوئے آدمی یہ سمجھتا رہتا ہے کہ آخرت میں بھی اس کو اپنے آدمی مل جائیں گے جو اس کا کام بنا دیں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے تمام اپنے لوگ وہاں اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ وہاں ہر انسان اپنے آپ کو اکیلا پائے گا۔ وہاں فرشتوں کے سوا کوئی اور نہ ہوگا جو اس کا کام بنائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page