خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 515
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت : مادی یا روحانی ایک بار مولانا سید سلیمان ندوی (وفات 1953) اور ڈاکٹر محمد اقبال (وفات 1938) کے درمیان ایک مسئلے پر بحث ہوئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ جنت مادی ہے یا روحانی۔ مولانا سید سلیمان ندوی کا کہنا تھا کہ جنت مادی ہے۔ اور ڈاکٹر محمد اقبال کا خیال تھا کہ جنت روحانی ہے۔ جب دونوں میں اتفاق نہ ہوسکا تو مولانا سید سلیمان ندوی نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ ٹھیک ہے، آپ اپنی روحانی جنت میں جائیں گے اور ہم اپنی مادی جنت میں جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت روحانی بھی ہے اور مادی بھی۔ جنت محض ایک عیش کدہ نہیں ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے: وَأْتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا (2:25) یعنی موجودہ دنیا کی سرگرمیوں کی طرح جنت کی دنیا بھی کامل طور پر سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ البتہ یہ سرگرمیاں شغل فا کہ (سورہ یس، 36:55) کی صورت میں ہوں گی، یعنی پر مسرت سرگرمیاں (joyful activities) ۔ یہ سرگرمیاں ہر قسم کی اُن سرگرمیوں پر محیط ہوں گی جن کو ذہنی اور فکری سرگرمیاں (intellectual activites) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنت میں مادی نعمتیں بھی ہوں گی۔ یہ نعمتیں اہل جنت کو خدا کی طرف سے ضیافت (hospitality) کے طور پر ملیں گی، جیسا کہ قرآن کی سورہ حم السجدہ میں آیا ہے : نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيم : As a rich hospitality from one who is everforgiving and most merciful (41: 32) جنت میں اہل جنت پر مسرت قسم کی اعلیٰ ربانی سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے۔ یہ سلسلہ ابد تک جاری رہے گا۔ اس طرح جنت میں اہل جنت کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنی لامحدود صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال کرسکیں۔ مادی نعمتوں کے لیے انھیں مزید کچھ نہیں کرنا ہوگا۔ اہل جنت کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے مہمان کی ہوگی اور ان کو ہر قسم کا سامان ضیافت اللہ کی طرف سے فراہم کیا جاتا رہے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader