Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 519

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا اور آخرت دنیا کا مطلب ہے آج میں جینا، آخرت کا مطلب ہے کل میں جینا۔ دنیا کا مطلب ہے قبل از موت زندگی کی فکر کرنا، آخرت کا مطلب ہے بعد از موت زندگی کی تیاری کرنا۔ دنیا کا مطلب ہے حال کی تعمیر اور آخرت کا مطلب ہے مستقبل کی تعمیر۔ کسی انسان کے لیے زندگی کی دو قسمیں ہیں__ دنیا پرستانہ زندگی اور آخرت پسندانہ زندگی۔ دنیا پرستانہ زندگی یہ ہے کہ آدمی دنیا کی ترقی کو اپنا مقصد بنائے۔ اس کی دلچسپی صرف دنیا کی چیزوں سے ہو۔ وہ دنیا کی کامیابی کو کامیابی سمجھے اور دنیا کی ناکامی کو ناکامی۔ اس کا دماغ صرف دنیا کو لے کر سوچے اور اس کا دل دنیا کے معاملات میں اٹکا ہوا ہو۔ دنیا پرست انسان وہ ہے جس کی محبت بھی دنیا کے لیے ہو اور اس کی نفرت بھی دنیا کے لیے۔ وہ دنیا کی چیزوں کے ملنے پر خوش ہوتا ہو اور جب دنیا کی چیزیں نہ ملیں تو وہ مایوس ہو جائے۔ دنیا میں کوئی عزت کا مقام پانا، اُس کے اندر فخر (pride) کا جذبہ پیدا کرے اور دنیا میں بے عزتی کا تجربہ اس کو منفی احساس (negativity) میں مبتلا کر دے۔ آخرت پسندانہ زندگی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ آخرت پسند انسان وہ ہے جس کا واحد کنسرن (sole concern) صرف آخرت بن جائے، جو ہر وقت آخرت کے بارے میں سوچے، جو موت کے بعد آنے والے واقعات پر فکر مند رہتا ہو، جو میدان حشر میں پیش آنے والے محاسبہ (accountability) کو یاد کرتا رہے۔ آخرت پسند انسان وہ ہے جس کے ذہن پر آخرت کا احساس اتنا زیادہ چھا جائے کہ دنیا کی ہر چیز اُس کو بے قیمت معلوم ہونے لگے، جو آخرت کی جنت کا حریص ہو اور آخرت کی جہنم کی یاد اس کو بے چین کردے، جو قیامت سے پہلے قیامت کو دیکھ لے، جو میدان حشر میں اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے پہلے اپنے آپ کو اللہ کے سامنے کھڑا ہوا پائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page