Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 520

By Maulana Wahiduddin Khan

ملنے سے محروم دریا کے دو ساحل ہوتے ہیں، لیکن وہ ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے محروم رہتے ہیں۔ تقریباً یہی حال انسان کا ہے۔ انسان کو اُس کے پیدا کرنے والے نے بے شمار خواہشات (desires) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ دوسری طرف، اس دنیا میں خواہشات کی تکمیل کا سامان بھی وافر مقدار میں موجود ہے، لیکن کوئی انسان اپنی خواہشات کی تکمیل (fulfilment) ن نہیں کر پاتا، یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے۔ گویا کہ ایک طرف، خواہشات کی دنیا (world of pleasure) ہے جس کے اوپر لکھا ہوا ہے— نو ٹیکر (no taker)۔ دوسری طرف انسان کی دنیا ہے جو خاموش زبان میں یہ کہہ رہی ہے کہ : water water everywhere, not a drop to drink. یہ متضاد صورتِ حال (contradictory situation) ہزاروں سال سے جاری ہے۔ ہر ایک شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سوال کا جواب جاننا چاہتا ہے، لیکن کسی کو اس کا جواب معلوم نہیں ۔ اسی کا ایک اظہار یہ ہے کہ ہر مقبول ناول جو لکھا گیا ہے، وہ المیہ (tragedy) ہے، کوئی بھی مقبول ناول طربیہ (comedy) نہیں۔ ناول انسانی تجربے کا اظہار ہوتا ہے اور موجودہ حالت میں، المیہ ہی انسانی مائنڈ کو ایڈریس کرتا ہے، نہ کہ طربیہ۔ یہ صورتِ حال آخرت کے مذہبی عقیدے کی تصدیق ہے۔ اس صورتِ حال کی توجیہہ صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ یہ مانا جائے کہ دو ساحل‘، جو موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں یکجا نہ ہو سکے، وہ موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں یکجا ہوں گے۔ اور پھر انسان کو وہ فل فل مینٹ (fulfilment) مل سکے گا جو موجودہ دنیا میں اس کو نہ مل سکا۔ یہاں ایک طرف مچھلی ہے اور دوسری طرف پانی۔ مچھلی پانی کے بغیر ہے، اور پانی مچھلی کے بغیر۔ اس طرح دونوں ناتمام حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ صورتِ حال آخرت میں ختم ہوگی۔ اُس وقت انسان کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ حقیقی معنوں میں اپنی زندگی کی کہانی کو طربیہ‘‘ کے اصول پر لکھ سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page