خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 521
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کا مستقبل انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ایک لذت پسند حیوان (pleasure-seeking animal) ہے۔ انسان کے اندر بے پناہ حد تک یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ وہ چیزوں سے محفوظ ہو سکے ۔ سوچنے میں لذت، بولنے میں لذت، دیکھنے میں لذت، سننے میں لذت، کھانے میں لذت، چھونے میں لذت، رفاقت میں لذت، غرض انسان کے اندر لامحدود طور پر لذت پسندی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ چیزوں سے محفوظ ہونا انسان کے لیے ایک اعلیٰ ترین محبوب تجربہ ہے۔ لیکن موت سے قبل کی دنیا میں جو زندگی انسان کو حاصل ہے، اُس میں وہ کسی بھی چیز سے پوری طرح محفوظ نہیں ہو پاتا۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں سامان حیات کی محدودیت (limitations) اُس میں فیصلہ کن طور پر رکاوٹ ہے کہ انسان کسی بھی چیز سے پوری طرح محفوظ ہو سکے۔ فطری طور پر لذت پسندی کا مزاج ہونے کے باوجود موجودہ دنیا میں کسی بھی انسان کو فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل نہیں ہوتا۔ اسلامی عقیدے کے مطابق ، اِس فل فل مینٹ کا مقام موت کے بعد آنے والی دنیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کون انسان ہے جس کو اس اگلی دنیا میں فل فل مینٹ کا موقع ملے گا۔ اگر دوبارہ اِس کے حصول کے لیے اعمال کی کڑی شرط ہو تو غالباً کوئی بھی انسان اِس پر پورا نہیں اترے گا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ بے پناہ حد تک لذتوں کا طالب ہونے کے باوجود انسان ان لذتوں کی تکمیل سے ابدی طور پر محروم رہے گا، موت سے پہلے کی دنیا میں خود دنیا کی محدودیت (limitations) کی بنا پر، اور موت کے بعد کی زندگی میں اپنی عملی کوتاہی کی بنا پر۔ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ جنت کسی کو اپنے اعمال کی مقدار کی بنا پر نہیں ملے گی، بلکہ وہ صرف اللہ کی رحمت سے ملے گی۔ یہ وہ انوکھے لوگ ہیں جنھوں نے سب کچھ کرنے کے باوجود حقیقی طور پر اپنے عمل کو حذف کر دیا ہو، اور وہ حقیقی طور پر اللہ کی رحمت کے امیدوار بن گئے ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader