خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 525
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کا مستحق کون جنت خوشیوں اور راحتوں کی ایک ناقابل قیاس دنیا ہے۔ جنت صرف اُن لوگوں کو ملے گی جو ناقابلِ قیاس کردار کی قیمت دے کر، اس کا استحقاق ثابت کردیں۔ جنت، ابدی خدا کے پڑوس میں ابدی سیٹ حاصل کرنے کا نام ہے (سورۃ القمر 54:55)۔ اِس قسم کی غیر معمولی اقامت گاہ صرف انھیں خوش قسمت لوگوں کو مل سکتی ہے جو اُس کی اعلیٰ قیمت دینے کا حوصلہ کر سکیں۔ جنت کی ناقابلِ قیاس سیٹ کو پانے کے لیے انسان کو ناقابلِ قیاس عمل کا ثبوت دینا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ناقابلِ مشاہدہ (unobservable) کو قابل مشاہدہ (observable) بنا سکے۔ وہ زمان و مکان (time and space) کے اندر رہتے ہوئے، زمان و مکان کے باہر دیکھنے والی نگاہ پیدا کرے۔ وہ الفاظ کے تاریک جنگل میں معانی کی روشنی کو پا سکے۔ وہ خواہشوں کے سمندر میں رہتے ہوئے، اپنے آپ کو اس سمندر میں ڈوبنے سے بچائے۔ وہ انانیت (egoism) کا پہاڑ ہوتے ہوئے، اپنے آپ کو بے انا (egoless) بنا سکے۔ وہ بدخواہ لوگوں کی بھیڑ میں رہتے ہوئے، اپنے آپ کو لوگوں کا خیر خواہ (well wisher) بنائے۔ وہ ایک کم زور انسان ہوتے ہوئے، ایک طاقت ور انسان کا رول ادا کرے۔ وہ کامل آزادی کا مالک ہوتے ہوئے، اختیارانـہ طور پر اپنے آپ کو سرینڈر کر دے۔ وہ نہ بولے ہوئے الفاظ کو سنے، اور نہ دکھائی دینے والی حقیقت کا اعتراف کرے ۔ وہ جھوٹ سے بھری ہوئی دنیا میں سچ بولنے کا ثبوت دے۔ وہ بددیانتی (dishonesty) کے ماحول میں، دیانت داری (honesty) کے رویہ پر قائم رہے۔ خدا کے فرشتے دن رات سرگرم ہیں کہ وہ اُن لوگوں کی فہرست تیار کریں جو آخرت میں خدا کے پڑوس میں بننے والی جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی اعلیٰ معرفت نے ان کو اس قابل بنایا کہ انھوں نے ہر دوسری چیز سے اپنی توجہ ہٹا کر صرف ایک خدا کو اپنا سپریم کنسرن (supreme concern) بنا لیا۔ جن کا حال یہ تھا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader