Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 526

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کے شوقِ جنت نے ان کے لیے دنیا کی ہر پرکشش چیز کو بے کشش بنا دیا۔ خدا کی عظمت (glory of God) کے احساس نے جن کے اندر سے فخر (pride) اور بڑائی کے تمام جذبات کو مٹا دیا۔ خدا کی پکڑ کے اندیشے نے جن کا یہ حال کیا کہ لذتوں کے درمیان رہتے ہوئے، لذتوں سے محظوظ ہونا ان کے لیے ممکن نہ رہا۔ جن لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جو آوازیں دوسروں کے لیے قابلِ سماعت آوازیں تھیں، وہ ان کے لیے ناقابلِ سماعت آوازیں بن گئیں۔ جن کو دنیا کی ترقی اور دنیا کی محرومی، دونوں یکساں طور پر بے معنیٰ نظر آنے لگیں۔ جن کا حال یہ تھا کہ اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے بجائے، ان کے لیے یہ کہنا زیادہ ہرائے ہیں ۔ میں خام ہاں یہ تھا کہ آپ کے آپ ہی اس باب میں رائے دیتے رہے محبوب بن گیا کہ ــــ میں غلطی پر تھا: I was wrong جو کہ ایک حقیقی مقام سے دوسرا حقیقی اوصاف کا روایتی ہر ایک کو اس لیے یہ ہماری یاری حاصل ہوگا، حزین، میں وہ جنت ایک یقینی مقام ہے۔ وہ یقینی اوصاف کی قیمت ہی پر کسی کو حاصل ہوگا۔ جنت میں وہ انسان بسائے جائیں گے جو ربانی اوصاف کے حامل ہوں۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو ان ربانی اوصاف کا حامل بنائیں، وہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں گے۔ جنت کسی کو پر اسرار اسباب کے تحت نہیں ملے گی، بلکہ وہ کامل طور پر معلوم اسباب کے تحت ملے گی۔ اور وہ معلوم اسباب یہی ہیں کہ موجودہ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو ان ربانی اوصاف کا حامل بنائے۔ جنت سچے انسانوں کی کالونی ہے۔ موجودہ دنیا میں انھیں سچے انسانوں کا انتخاب (recruitment) کیا جارہا ہے۔ موجودہ دنیا کی زندگی میں جو لوگ کامل طور پر سچے انسان ثابت ہوں ، وہی جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں گے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page