Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 530

By Maulana Wahiduddin Khan

پڑتا ہے۔ اسی طرح دولت مند لوگ رغبت کے باوجود چیزوں کو کھانا چھوڑ دیتے ہیں، کیوں کہ انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ موٹے ہو کر طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے۔ یہی حال تمام دوسری لذتوں کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکتاہٹ یا بے رغبتی ہماری انجوائے کرنے کی استعداد کی حد ہے نہ کہ خود رغبت کی حد۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں نہ صرف یہ ہوگا کہ تمام لذتیں مزید اضافہ کے ساتھ زیادہ مکمل حالت میں انسان کو دی جائیں گی، بلکہ ان لذتوں سے انجوائے کرنے کی استعداد کے سلسلہ میں اس کی محدودیت بھی ختم کر دی جائے گی۔ جنت میں یہ تضاد ختم ہو جائے گا کہ آدمی انجوائے کرنا چاہتا ہے مگر اپنی کسی محدودیت کی بنا پر وہ اپنی مرغوب چیزوں سے انجوائے نہیں کر پاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنت انسان کے لئے ابدی خوشیوں کی جگہ بن جائے گی۔ دنیا میں آدمی کو جس اکتاہٹ (بورڈم) کا تجربہ ہوتا ہے وہ دراصل ایک تضاد کا نتیجہ ہے۔ آدمی پیدائشی طور پر ایک معیار پسند (idealist) مخلوق ہے۔ وہ چیزوں کو ان کی آئڈیل صورت میں پانا چاہتا ہے، مگر اس دنیا میں ہر چیز غیر معیاری یا غیر آئڈیل ہے۔ بورڈم کا اصل سبب یہی ہے۔ آدمی اپنے شوق کے تحت ایک چیز کی طرف دوڑتا ہے۔ اس کو پانے سے پہلے وہ اس فریب میں رہتا ہے کہ یہ عین وہی آئڈیل چیز ہے جس کا وہ طالب تھا۔ مگر حاصل کر لینے کے بعد جب وہ اس کا تجربہ کرتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کے مطلوب آئڈیل سے بہت کم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کو تلاش کی لذت تو ملتی ہے، مگر یافت کی لذت اسے نہیں ملتی۔ موجودہ دنیا میں آدمی کے لئے فریب لذت ہے اور آخرت میں حقیقی لذت۔ آخرت کی ہر چیز معیاری ہوگی۔ اس بنا پر وہ آدمی کے لئے حقیقی اور لامحدود لذت کا ذریعہ بن جائے گی۔ آدمی جو کچھ چاہتا ہے وہ جنت میں اس کو مزید اضافہ کے ساتھ مل جائے گا، اس لئے وہاں اس کے لئے اکتاہٹ کا کوئی سوال نہ ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page