خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 531
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کا ٹکٹ مغربی دنیا کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی۔ ان کی عمر پچاس سال سے اوپر ہو چکی تھی۔ انھوں نے کہا کہ مجھ کو تو جنت کا ٹکٹ چاہیے، مجھ کو آپ صرف یہ بتائیے کہ جنت کا ٹکٹ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ معروف معنوں میں جنت کا کوئی ٹکٹ نہیں۔ یہ جنت ٹکٹ کا معاملہ نہیں، یہ جنتی شخصیت کا معاملہ ہے۔ آخرت کی قیمتی جنت اُس آدمی کو ملے گی جس نے اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کی تھی۔ جنت میں داخلہ کسی کو ’’ٹکٹ‘‘ کے ذریعے نہیں ملے گا۔ جنت کی قیمت آدمی کا اپنا وجود ہے، اپنے وجود کی قیمت دے کر ہی کوئی شخص جنت کی دنیا میں اپنے لیے داخلہ پا سکتا ہے۔ جنت میں داخلے کی شرط یہ ہے کہ آدمی مزکی شخصیت (سورۃ طہ، 20:76) لے کر وہاں پہنچا ہو، یعنی وہ ایک ایسا انسان ہو جس کے اندر پاکیزہ روح بسی ہوئی ہو، جس کا دل اور دماغ آلائشوں سے پاک ہو، جس نے اپنے اندر ربانی شخصیت کا باغ اگایا ہو۔ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جس کے ایک طرف کیچڑ ہے اور دوسری طرف صاف وشفاف پانی۔ آدمی چاہے تو اپنے کو کیچڑ میں آلودہ کرے، اور چاہے تو صاف پانی میں نہا کر وہ صاف ستھرا بن جائے۔ جو لوگ اپنے آپ کو آلودہ کریں، وہ آخرت میں جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور جو لوگ اپنے آپ کو پاک کریں، اُن کو جنت کی ابدی نعمت گاہوں میں بسایا جائے گا۔ اعتراف کے موقع پر اعتراف کرنا، اپنی شخصیت کو پاک کرنا ہے اور اعتراف کے موقع پر بے اعترافی کا رویہ اختیار کرنا، اپنی شخصیت کو آلودہ کرنا۔ اسی طرح ایک موقع آتا ہے جس میں ایک شخص اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیتا ہے اور دوسرا شخص پست اخلاق کا۔ ایک موقع آتا ہے جس میں ایک شخص حق تلفی کرتا ہے اور دوسرا شخص حق رسانی۔ ایک موقع آتا ہے جس میں ایک شخص امین (honest) ثابت ہوتا ہے اور دوسرا شخص خائن (dishonest)۔ ایک موقع آتا ہے جس میں ایک شخص تواضع (modesty) کے راستے پر چلتا ہے اور دوسرا شخص سرکشی کے راستے پر— ان میں سے پہلا آدمی اپنی شخصیت کو پاک کرنے والا ہے اور بلاشبہ جنت کی نفیس دنیا میں ایسے ہی انسانوں کو داخلہ ملے گا۔ اس کے برعکس، دوسرا آدمی اپنی شخصیت کو آلودہ کرنے والا ہے اور جہنم بلاشبہ ایسے ہی غیر مزکی لوگوں کا ٹھکانا ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader