Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 544

By Maulana Wahiduddin Khan

بڑھاپے کی عمر حدیث میں آیا ہے کہ اُس انسان پر افسوس ہے جس کو 60 سال کی عمر ملی، اس کے باوجود اس نے جنت حاصل نہ کی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6419) یہ صرف عمر کی بات نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک نہایت گہری حقیقت بیان کی گئی ہے۔ وہ گہری حقیقت یہ ہے کہ زیادہ عمر کا مطلب زیادہ تجربہ ہے، اور زیادہ تجربے کے باوجود جو آدمی جنت والا عمل نہ کرے، وہ بلاشبہ ایک بدنصیب انسان ہے۔ اس کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کو جنت کے گیٹ کے پاس پہنچایا جائے، اس کے باوجود وہ گیٹ کے اندر داخل نہ ہو۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہر آدمی کو اس دنیا میں صرف محدود عمر حاصل ہوتی ہے۔ آدمی جب پیدا ہوتا ہے، اُسی وقت اس کا کاؤنٹ ڈاؤن (countdown) شروع ہو جاتا ہے۔ گویا کہ زندگی کا سفر موت کی طرف سفر ہے۔ جب بڑھاپا آتا ہے تو آدمی کے لیے وہ نصف موت کا تجربہ ہوتا ہے۔ بڑھاپے کی عمر قربِ موت (near death) کے ہم معنیٰ ہے۔ بڑھاپا ہر صبح و شام آدمی کو موت کی یاد دلاتا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ جب وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچے تو وہ زیادہ سے زیادہ، موت کو اور موت کے بعد آنے والے حالات کو یاد کرے ۔ وہ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں بار بار تازہ کرے کہ موت سے پہلے وہ اپنے آپ کو قدرت کی حالت میں پاتا ہے، موت کے بعد اچانک وہ اپنے آپ کو عجز کی حالت میں پائے گا۔ اس احساس کا تقاضا ہے کہ اُس کا دل نرم ہو۔ وہ خدا کی پکڑ سے ڈرے۔ وہ آخرت کے اعتبار سے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ تیار کرے۔ جو آدمی بڑھاپے کی عمر کو پہنچے، لیکن وہ اپنے بڑھاپے سے تقویٰ کی خوراک حاصل نہ کرے، وہ بلاشبہ ایک بدنصیب انسان ہے۔ اُس کا انجام ابدی بربادی اور ابدی حسرت کے سوا اور کچھ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page