Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 545

By Maulana Wahiduddin Khan

موت: اصلاح کا سب بڑا ذریعہ حدیث میں آیا ہے کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرو (أکثروا ذكر هادم اللذات، الموت)۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی چیز لوگوں کی زندگی میں سب سے زیادہ مفقود ہے۔ اس کا سبب غالباً یہ ہے کہ انسان کے ڈی این اے (DNA) میں سب کچھ ہے، مگر اس میں موت کا اندراج نہیں۔ لیکن موت کو یاد کرنے کے لیے ڈی این اے میں اس کے اندراج کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ روزانہ صبح و شام لوگ مرتے رہتے ہیں اور یہی عام واقعہ اس کے لیے کافی ہے کہ لوگ اپنے مرنے کو مسلسل طور پر یاد رکھیں۔ وہ ایک لمحہ کے لیے بھی موت سے غافل نہ ہوں۔ موت گویا کہ ایک حدِ فاصل ہے۔ موت کے ایک طرف موجودہ دنیا ہے جس کو ایک سرسبز باغ (green garden) کہا جا سکتا ہے۔ موت کے دوسری طرف، آخرت کی دنیا ہے جو گویا کہ ایک صحرا (desert) ہے۔ موت کے وقت ایسا ہوتا ہے کہ اچانک آدمی موجودہ دنیا سے نکل کر ایک لامحدود صحرا میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ اچانک پاتا ہے کہ پچھلی سرسبز دنیا میں اب وہ واپس نہیں جاسکتا۔ اس کے آگے وہ لامحدود صحرا ہوتا ہے جہاں اُس کے لیے زندگی کے سامانوں میں سے کوئی سامان موجود نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ: كفى بالموت واعظاً (البيهقی، حديث نمبر (10072) یعنی انسان کی نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر موت کو یاد کرتا رہے تو صرف یہی چیز اس کی زندگی کی اصلاح کے لیے کافی ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کی یاد کیرم بورڈ کی اصطلاح میں گویا ماسٹر اسٹروک (master stroke) کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ آدمی کی پوری زندگی کو بدل دیتی ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان مختلف سہاروں کے درمیان جیتا ہے۔ یہ سہارے اُس کو ہمیشہ بھلاوے میں رکھتے ہیں۔ موت کی یاد اس کو بتاتی ہے کہ یہ تمام سہارے اچانک ٹوٹ جائیں گے۔ موت آتے ہی آدمی بالکل بے سہارا بن کر رہ جائے گا۔ موت کا یہی وہ پہلو ہے جس کی بنا پر اس کو اصلاح کا سب سے بڑا ذریعہ بتایا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page