Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم زمانے سے ایک روحانیت پسند طبقہ رہا ہے جو معرفت کا ذریعہ قلب کو بتاتا ہے۔ اسی نظریے کے تحت، قلبی مراقبہ (meditation) کا طریقہ رائج ہوا۔ مگر یہ نظریہ خداوندی کی پیداوار نہیں، یہ نظریہ تمام تر وحدتِ وجود (monism) کے تصور کے تحت پیدا ہوا ہے۔ وحدتِ وجود یا دوئیت واد کا عقیدہ رکھنے والوں نے اپنے اس عقیدے کے تحت ایک نظریہ وضع کیا ہے۔ اس نظریے کو وہ ان ڈویلنگ گاڈ (in-dwelling god) کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں، یعنی دل کے اندر بسنے والا خدا۔ مگر یہ نظریہ تمام تر تصرف قیاس (supposition) پر مبنی ہے، اُس کے حق میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ قرآن میں قلب (heart) کے حوالے سے فقہ (فہم) کا حوالہ آیا ہے (الاعراف، 7:179) ، مگر یہ صرف ادبی استعمال (literary usage) کے طور پر ہے، وہ حقیقی معنی کے اعتبار سے نہیں۔ موجودہ زمانے میں قلب کی تحقیق کرنے والوں نے بتایا ہے کہ قلب گردشِ خون ( blood circulation) کا جو عمل کرتا ہے، اس کے دوران قلب اور دماغ کے مابین کمیونی کیشن (communication) ہوتا ہے۔ مگر اس سے سوچنے والے دل (thinking heart) کا نظریہ ثابت نہیں ہوتا، کیوں کہ دماغ کے ساتھ اس قسم کا کمیونی کیشن جسم کے ہر عضو (organ) کے ساتھ ہوتا ہے۔ جدید علم تشریح الاعضا (anatomy) کے ذریعے جو چیز ثابت ہوئی ہے، وہ اعضا (organs) کے درمیان صرف کمیونکیشن ہے، نہ یہ کہ قلب یا کوئی اور عضو سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسم کے تمام اعضا (organs) اس اعتبار سے، دماغ کے ماتحت (subservient to the brain) ہیں، اس میں قلب کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ معرفت کا ذریعہ معرفت کا ذریعہ کسی قسم کے اوراد و اشغال نہیں ہیں۔ معرفت ایک زندہ دریافت کا نام ہے۔ معرفت کے حصول کا طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے، غور و فکر کے ذریعے اپنے اندر وہ صلاحیت پیدا کرنا، جب کہ آدمی مطالعہ اور مشاہدہ اور تجربہ کے دوران معرفت کا رزق پاتا رہے۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page